نارتھمبرِیا یونیورسٹی کے تحقیق ڈینیئل کے۔ اینوئے سولر ٹیلیسکوپ (DKIST)، ہاوائی کے ذریعے سائنسدانوں نے آخرکار سورج کے ایک پراسرار راز سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ کئی دہائیوں سے ماہرین یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ سورج کی بیرونی تہہ، جسے کورونا کہا جاتا ہے، اندرونی سطح کے مقابلے میں اتنی زیادہ گرم کیوں ہے۔ اب ایک نئی تحقیق نے اس معمے کا جواب دے دیا ہے۔

یہ حیران کن دریافت ہاوائی میں قائم دنیا کے طاقتور ترین سورج کے دوربین ڈینیئل کے۔ اینوئے سولر ٹیلیسکوپ (DKIST) کے ذریعے ممکن ہوئی۔ سائنسدانوں نے پہلی بار سورج کی بیرونی تہہ میں موجود چھوٹی مگر بے حد طاقتور لہروں کو براہ راست مشاہدہ کیا ہے۔ ان لہروں کو ٹورشنیل الفوین ویوز کہا جاتا ہے جو سورج کے مقناطیسی میدان کے ساتھ پلازما میں گھومتی ہیں اور اتنی توانائی پیدا کرتی ہیں کہ سورج کے کورونا کو لاکھوں ڈگری سیلسیس تک گرم رکھتی ہیں۔

تحقیق کی قیادت نارتھمبرِیا یونیورسٹی کے پروفیسر رچرڈ مورٹن نے کی۔ انہوں نے ڈی کے آئی ایس ٹی کے جدید آلے کرایوجینک نیئر انفراریڈ اسپیکٹرو پولرائمیٹر کے ذریعے کرونہ میں ہائیلی آئونائزڈ لوہے کا مشاہدہ کیا جس کی حرارت تقریباً 1.6 ملین ڈگری سیلسیس ہے۔ یہ آلہ انتہائی حساس ہے اور سورج کی روشنی میں ہونے والے معمولی سرخ و نیلے جھکاؤ کو محسوس کر سکتا ہے جو مڑتی ہوئی لہروں کی موجودگی کا ثبوت ہیں۔

مزید براں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چھوٹے پیمانے کی ٹورشنیل الفوین لہروں کی موجودگی نے واضح کر دیا ہے کہ سورج کی بیرونی تہہ کی غیر معمولی حرارت انہی مقناطیسی لہروں کی وجہ سے ہے۔

واضع رہے کہ یہ دریافت نہ صرف سورج کے بارے میں ہماری سمجھ کو بہتر بنائے گی بلکہ شمسی طوفانوں کی پیش گوئی میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ اس سے مستقبل میں زمین کے سیٹلائٹس، جی پی ایس سسٹم اور بجلی کے نیٹ ورک کو ممکنہ نقصان سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا جا سکے گا۔