یہ دریافت ایسے مادّوں میں ہوئی ہے جو صرف چند ایٹمز کی موٹائی رکھتے ہیں، اور اسے سائنسی دنیا میں ایک بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جب انتہائی باریک تہوں کو خاص ترتیب سے ایک دوسرے پر رکھا جائے اور ہلکا سا گھمایا جائے تو ان میں ایک منفرد مقناطیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ نئی خاصیت مستقبل میں زیادہ گھنے اور توانائی بچانے والے ڈیٹا اسٹوریج سسٹمز کی تیاری میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ڈیجیٹل ڈیٹا کی مقدار تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور کم جگہ میں زیادہ ڈیٹا محفوظ کرنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ موجودہ اسٹوریج ڈیوائسز چھوٹے مقناطیسی حصوں کے ذریعے معلومات محفوظ کرتی ہیں، مگر مزید ترقی کے لیے زیادہ مستحکم اور باریک مقناطیسی حالتوں کی ضرورت ہے۔

اسٹٹگارٹ کی تحقیقاتی ٹیم نے کرومیم آئوڈائیڈ نامی مادّے پر تجربات کیے، جو چار ایٹمی تہوں پر مشتمل ہے۔ جب ان تہوں کے دو جوڑوں کو معمولی زاویے سے گھمایا گیا تو ایک نئی مقناطیسی حالت سامنے آئی، جو بیرونی اثرات کے باوجود مستحکم رہتی ہے۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے ’اسکائرمیونز‘ نامی نہایت چھوٹے گھومتے ہوئے مقناطیسی ڈھانچے بھی دریافت کیے۔ یہ مضبوط اور مستحکم ہوتے ہیں اور مستقبل میں ڈیٹا محفوظ کرنے کے لیے انتہائی مؤثر تصور کیے جا رہے ہیں۔

چونکہ یہ مقناطیسی سگنلز بہت کمزور ہوتے ہیں، اس لیے انہیں دیکھنے کے لیے عام مائیکروسکوپ کافی نہیں تھا۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کوانٹم مائیکروسکوپ استعمال کیا گیا، جو نہایت معمولی مقناطیسی میدان کو بھی محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت مقناطیسیت سے متعلق موجودہ سائنسی نظریات کو بھی چیلنج کرتی ہے، اور اس سے دو بُعدی طبیعیات میں نئی تحقیق کے دروازے کھل سکتے ہیں۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف اسٹٹگارٹ کے سینٹر فار اپلائیڈ کوانٹم ٹیکنالوجیز کے سربراہ یورگ وراخٹرپ کی قیادت میں کی گئی، اور اس کے نتائج معروف سائنسی جریدے نیچر نینو ٹیکنالوجی میں شائع ہوئے ہیں۔