یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے غیر قانونی طور پر سرچ انجن میں اپنی بالادستی کا استعمال کرتے ہوئے حریف کمپنیوں کو نقصان پہنچایا اور اپنی مختلف سروسز کو غیر منصفانہ طور پر ترجیح دی۔
Breaking News: European regulators hit Google with a $1 billion fine for illegally undercutting competition through its dominance as a search engine, a move likely to intensify trans-Atlantic trade tensions. https://t.co/7cPEDIf5k5
— The New York Times (@nytimes) July 23, 2026
بیان میں کہا گیا کہ گوگل نے اپنی شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں رکھا جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دھکیل دیا، جو یورپی یونین کے ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (DMA) کی خلاف ورزی ہے۔
یورپی کمیشن کے مطابق ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی سروسز کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کریں اور شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ پالیسیوں پر عمل کریں۔
کمیشن نے یہ بھی کہا کہ گوگل نے اپنے پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے بھی روکے رکھا، تاکہ گوگل کی فیس میں کمی نہ آئے، جو ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی ایک اور خلاف ورزی ہے۔
یورپی کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 روز کے اندر فیصلے پر عمل درآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
EU fines Google €890 million over digital market rules 👉 https://t.co/CX6dKyEEai
— EU Perspectives (@EUPerspectives) July 23, 2026
The total penalty consists of two parts: €460 million for "self-preferencing" search results over third parties, and €430 million for "anti-steering" restrictions that prevent developers from… pic.twitter.com/IXqyZs4DjF
دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے یورپی صارفین کو نقصان پہنچے گا۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر کمپنی پر 4.7 ارب ڈالر جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جب کہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر 2.8 ارب ڈالر کا جرمانہ کیا گیا تھا، جن کے خلاف گوگل کی اپیلیں بھی بعد ازاں مسترد ہو چکی ہیں۔







