پی سی بی کی جانب سے قذافی اسٹیڈیم کی پچ کو دیے گئے ڈی میرٹ پوائنٹ کے خلاف باضابطہ اپیل دائر کی گئی تھی، جس پر آئی سی سی کے اپیل پینل نے معاملے کا جائزہ لینے کے بعد ڈی میرٹ پوائنٹ واپس لینے کا فیصلہ سنایا۔

یہ معاملہ 4 جون کو پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے ون ڈے میچ کی پچ سے متعلق تھا۔ میچ کے بعد آئی سی سی کی جانب سے پچ کو ’’غیر تسلی بخش‘‘ قرار دیتے ہوئے ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دیا گیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کے پچ ریٹنگ کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپیل دائر کی اور مؤقف اختیار کیا کہ پچ کے حوالے سے ڈی میرٹ پوائنٹ دینے کا فیصلہ مناسب نہیں۔

اپیل پر غور کے بعد آئی سی سی کے اپیل پینل نے پچ کا دوبارہ جائزہ لیا۔ پینل کے مطابق میچ کے دوران پچ پر ایسی غیر معمولی ناہمواری نظر نہیں آئی جس کی بنیاد پر اسے ڈی میرٹ پوائنٹ دیا جائے۔

آئی سی سی اپیل پینل نے یہ بھی قرار دیا کہ پچ پر ضرورت سے زیادہ اسپن کے شواہد بھی موجود نہیں تھے، جس کے باعث ابتدائی طور پر دیا گیا ڈی میرٹ پوائنٹ برقرار رکھنے کی ضرورت نہیں۔

اس فیصلے کے بعد قذافی اسٹیڈیم لاہور کی پچ کے ریکارڈ سے ایک ڈی میرٹ پوائنٹ ختم کردیا گیا ہے اور اب اس پچ کے ذمے کوئی ڈی میرٹ پوائنٹ نہیں رہا۔

پی سی بی کی اپیل کی منظوری کو پاکستان کرکٹ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ آئی سی سی کی جانب سے پچز کی درجہ بندی اور ڈی میرٹ پوائنٹس کا نظام بین الاقوامی کرکٹ کے مقامات کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

قذافی اسٹیڈیم لاہور پاکستان کے اہم ترین کرکٹ وینیوز میں شمار ہوتا ہے، جہاں بین الاقوامی سطح کے متعدد میچز اور بڑے کرکٹ ایونٹس منعقد ہوچکے ہیں۔

آئی سی سی اپیل پینل کے فیصلے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کو قذافی اسٹیڈیم کی پچ کے حوالے سے بڑا ریلیف مل گیا ہے، جبکہ پچ کے ریکارڈ میں بھی اب کوئی ڈی میرٹ پوائنٹ موجود نہیں ہوگا

پی سی بی کی جانب سے اپیل کے ذریعے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی گئی تھی، جسے آئی سی سی پینل نے منظور کرتے ہوئے ابتدائی فیصلہ واپس لے لیا۔ یوں آسٹریلیا کے خلاف میچ کے لیے قذافی اسٹیڈیم کی پچ کو دیا گیا ڈی میرٹ پوائنٹ باضابطہ طور پر ختم ہوگیا۔