اس تبدیلی کا بڑا سہرا پاک فوج کے سربراہ عاصم منیر کو دیا جا رہا ہے، جنہوں نے حالیہ مہینوں میں اہم سفارتی روابط قائم کیے۔
عالمی خبررساں ادارے رائٹرز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں، جن میں وائٹ ہاؤس میں ایک ون آن ون ملاقات بھی شامل ہے، جو غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے۔
اسی دوران پاکستان نے ایک مبینہ شدت پسند کو گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کیا، جس پر واشنگٹن نے اطمینان کا اظہار کیا۔
سفارتی سطح پر پاکستان نے عالمی رہنماؤں کے ساتھ رابطوں میں تیزی لاتے ہوئے اپنے قریبی اتحادی چین کے ساتھ تعلقات کو بھی مزید مضبوط کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی قیادت امریکا اور چین کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے ایک متنوع خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
یاد رہے کہ اسامہ بن لادن کی موت (2011) کے بعد پاکستان اور مغربی ممالک کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہو گیا تھا، جب کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری اور افغانستان جنگ کے دوران الزامات نے بھی تعلقات کو مزید خراب کیا۔
معاشی محاذ پر بھی پاکستان شدید دباؤ کا شکار رہا، تاہم انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ساتھ معاہدے کے بعد ڈیفالٹ کے خطرات وقتی طور پر کم ہوئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کے ساتھ اعتماد کی بحالی میں دو اہم پیش رفتیں سامنے آئیں، جن میں کابل ایئرپورٹ حملے کے ایک مشتبہ شخص کی گرفتاری اور انڈیا کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کا محتاط رویہ شامل ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دکھاتے ہوئے سعودی عرب، ترکی اور مصر کے ساتھ قریبی روابط استوار کیے ہیں، خصوصاً ایران سے متعلق معاملات میں۔
مزید پڑھیں: ایران کی نئی رجیم کے صدر کم شدت پسند اور زیادہ سمجھدار، جنگ بندی کی درخواست کی ہے: ٹرمپ
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سمیت اعلیٰ امریکی حکام نے بھی پاکستان کے ساتھ رابطے بڑھائے ہیں، جب کہ عاصم منیر کو عالمی اقتصادی فورم ورلڈ اکنامک فورم ڈیوس میں شرکت کرنے والے واحد حاضر سروس فوجی سربراہ کے طور پر بھی دیکھا گیا۔
تاہم پاکستان کا یہ ابھار روایتی حریف انڈیا کے لیے باعثِ تشویش بن رہا ہے، جہاں اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ پاکستان کو سفارتی سطح پر کامیابیاں مل رہی ہیں، مگر معیشت کی کمزوری اور علاقائی تنازعات، خصوصاً افغانستان کے ساتھ کشیدگی، اب بھی بڑے چیلنجز ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو مستقبل میں امریکا، ایران اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کے لیے محتاط حکمت عملی اپنانا ہوگی، کیونکہ ثالثی کا کردار اگر درست انداز میں نہ نبھایا گیا تو یہ فائدے کے بجائے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔







