ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اس اضافے کی بڑی وجوہات میں عالمی طلب میں اضافہ، جغرافیائی کشیدگی اور سپلائی سے متعلق خدشات شامل ہیں، جس کے باعث سرمایہ کاروں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مثبت پیش رفت سامنے آئی، جہاں 100 انڈیکس بڑھ کر 1 لاکھ 66 ہزار 518 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

دوسری جانب ایشیا کی بڑی معیشتوں کی اسٹاک مارکیٹس دباؤ کا شکار رہیں۔ کوسپی انڈیکس میں 1.61 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ نکئی 225 اور ہینگ سینگ انڈیکس میں بھی 0.53 فیصد تک گراوٹ دیکھی گئی۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی سفارتی پیش رفت کے عالمی اثرات، تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

اسی طرح بھارت کی اسٹاک مارکیٹس بھی منفی رجحان کا شکار رہیں، جہاں اہم انڈیکسز میں ڈیڑھ فیصد سے زائد کمی رپورٹ ہوئی، جس سے سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ ہوا۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اسی طرح جاری رہا تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر مزید گہرے ہو سکتے ہیں، خاص طور پر درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے مہنگائی کا دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔