ایران کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اگر واشنگٹن نے خطے میں نئی فوجی کارروائی یا کشیدگی کو ہوا دی تو اس قرارداد کے حمایت یافتہ ممالک بھی اس کے نتائج سے بری الذمہ نہیں ہوں گے۔

ایرانی مشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ مختلف ممالک کو شریکِ قرارداد بنا کر اپنی پالیسیوں کے لیے عالمی حمایت کا  جھوٹا تاثر  پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی سیاسی جواز یا سفارتی پردہ ان ممالک کو ذمہ داری سے آزاد نہیں کر سکتا۔

امریکا، بحرین اور خلیجی ممالک کی حمایت سے پیش کی گئی مجوزہ قرارداد میں خلیجی پانیوں میں ایرانی حملے روکنے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: پوپ لیو کا امریکی کارروائیوں پر آواز اٹھانے پر شکریہ، عالمی سطح پر  اخلاقی اور منصفانہ  مؤقف کی اشد ضرورت ہے: ایرانی صدر

ایران نے اس قرارداد کو خطے میں دباؤ بڑھانے اور اپنی خودمختاری کے خلاف اقدام قرار دیا ہے، جب کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔