طالبان حکومت کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی پی آر ڈی کے مطابق یہ ہلاکتیں بدھ سے جمعہ کے دوران ملک کے مرکزی اور شمالی صوبوں میں واقع ہوئیں۔ مزید برفباری اور بارش کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ترجمان این ڈی پی آر ڈی یوسف حماد کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم شدید موسمی حالات، بند سڑکیں، بجلی کی بندش اور مواصلاتی نظام میں خلل امدادی عمل کو متاثر کر رہا ہے۔
خیال رہے کہ افغانستان شدید موسمی حالات کے باعث اکثر خطرات کا شکار رہتا ہے، جہاں برفباری اور بارش کی وجہ سے فلڈ اور زمین کھسکنے کے واقعات عام ہیں۔ 2024 میں بہار کے موسم میں آنے والے فلڈ میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
دس دہائیوں کے جنگی اثرات، ناقص بنیادی ڈھانچہ، کمزور معیشت، جنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نے اس ملک میں قدرتی آفات کے اثرات کو مزید شدید کر دیا ہے، خاص طور پر دور دراز علاقوں میں جہاں زیادہ تر مکانات کیچڑ اور مٹی سے بنے ہیں۔
لازمی پڑھیں: خیبر پختونخوا، شادی کی تقریب میں خودکش دھماکا، 7 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے
اقوام متحدہ نے حال ہی میں کہا ہے کہ افغانستان 2026 میں بھی دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحرانوں میں شامل رہے گا اور اس کے لیے تقریباً 18 ملین افراد کی امداد کے لیے 1.7 ارب ڈالر کا ہنگامی اپیل جاری کی گئی ہے۔







