امریکی جریدے ٹائم میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے عرب ممالک سے وعدہ کیا تھا کہ ویسٹ بینک کا انضمام نہیں ہوگا اور اگر اسرائیل نے ایسا کیا تو اسے امریکا کی تمام حمایت کھو دینی پڑے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں میں نے غزہ میں جنگ بندی پر اصرار کیا، میں نے اسے روکا، کیونکہ وہ رکتا نہیں، میں نے کہا تم ساری دنیا سے نہیں لڑ سکتے۔

ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ وہ جلد غزہ کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور یہ بھی امید ظاہر کی کہ سعودی عرب رواں سال کے اختتام تک ابراہام معاہدے میں شامل ہو جائے گا۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اسرائیل کو ویسٹ بینک کے انضمام سے باز رہنے کی وارننگ دی ہے۔

وینس نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے بل کو “ایک بیوقوفانہ سیاسی حربہ” قرار دیا اور کہا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی بالکل واضح ہے، ویسٹ بینک ضم نہیں کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: اتحادی ممالک غزہ میں فوجی قوت کے ساتھ گھس کر حماس کو سبق سکھانے کے لیے تیار ہیں، ٹرمپ

روبیو نے بھی اسرائیلی حکومت کو خبردار کیا کہ annexation کی کوششیں غزہ امن منصوبے کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔ روانگی سے قبل ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ وقت نہیں کہ اسرائیل ایسے اقدامات کرے جو امن معاہدے کو نقصان پہنچائیں۔

واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں صدر ٹرمپ کے قریبی عہدیداران نے مسلسل اسرائیل کے دورے کیے ہیں تاکہ غزہ میں طے پانے والے نرم جنگ بندی معاہدے کو برقرار رکھا جا سکے، جس کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی، فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ اور جزوی فوجی انخلا شامل ہے۔