عالمی خبررساں اداروں کے مطابق اس معاہدے کے تحت امریکا کو آرمینیا کو نیوکلیئر ٹیکنالوجی اور آلات کی قانونی فراہمی کی اجازت ملے گی۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ اس سے ابتدائی طور پر 5 ارب ڈالر کی امریکی برآمدات ممکن ہوں گی، جب کہ ایندھن اور دیکھ بھال کے طویل المدتی معاہدوں کی مالیت مزید 4 ارب ڈالر تک جا سکتی ہے۔
وزیرِاعظم پاشینیان نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ معاہدہ امریکا اور آرمینیا کے درمیان توانائی کے شعبے میں شراکت داری کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔
وینس کا کہنا تھا کہ امریکا آرمینیا کو اسمال ماڈیولر ری ایکٹرز جیسی جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنے پر پُراعتماد ہے۔
خیال رہے کہ آرمینیا طویل عرصے سے توانائی کے لیے روس اور ایران پر انحصار کرتا رہا ہے، تاہم اب وہ امریکا، روس، چین، فرانس اور جنوبی کوریا کی کمپنیوں کی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ پرانے روسی ساختہ میٹسامور نیوکلیئر پاور پلانٹ کی جگہ نیا ری ایکٹر تعمیر کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا اسرائیلی پالیسی سے اختلاف، مغربی کنارے پر قبضے کی مخالفت کر دی
اس معاہدے کے بعد امریکی منصوبے کے منتخب ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جسے خطے میں روس کے اثر و رسوخ کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی دوران جے ڈی وینس اپنے دورے میں TRIPP کوریڈور منصوبے کو بھی آگے بڑھا رہے ہیں، جو جنوبی آرمینیا سے گزرتا ہوا آذربائیجان کو اس کے نخچیوان علاقے اور ترکی سے جوڑے گا۔
اس منصوبے کا مقصد ایشیا اور یورپ کے درمیان رابطے کو بہتر بنانا اور روس و ایران کو بائی پاس کرنا ہے۔
روسی نائب وزیرِ خارجہ میخائل گالوزن نے روسی میڈیا کو بتایا کہ روسی کمپنی روساٹوم آرمینیا میں نیا نیوکلیئر پلانٹ تعمیر کرنے کے لیے تیار ہے اور اس کی پیشکش مالی اور تکنیکی اعتبار سے بہترین ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آرمینیا کی ترجیح اب اپنے شراکت داروں کو متنوع بنانا ہے اور موجودہ حالات میں امریکا اس کی اولین پسند بنتا دکھائی دے رہا ہے۔







