رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایک ایسا منصوبہ تیار کیا جس کے تحت  اندر سے کسی شخصیت  کو اقتدار دیا جانا تھا اور اس مقصد کے لیے محمود احمدی نژاد پر غور کیا گیا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ منصوبہ ابتدا ہی میں مشکلات کا شکار ہوگیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے پہلے ہی دن تہران میں احمدی نژاد کے گھر پر اسرائیلی حملہ کیا گیا، جس کا مقصد مبینہ طور پر انہیں نظر بندی سے آزاد کروانا تھا۔

تاہم حملے میں احمدی نژاد زخمی ہوگئے اور بعد ازاں انہوں نے اس منصوبے سے لاتعلقی اختیار کرلی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت ان کے موجودہ مقام اور حالت کے بارے میں واضح معلومات موجود نہیں ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ احمدی نژاد کا انتخاب خود امریکی حلقوں میں بھی حیران کن سمجھا گیا کیونکہ وہ اپنے دورِ حکومت میں اسرائیل مخالف بیانات، ایران کے جوہری پروگرام کی بھرپور حمایت، امریکا پر سخت تنقید اور داخلی احتجاج کے خلاف سخت کارروائیوں کے لیے مشہور رہے ہیں۔

اخبار نے یہ بھی لکھا کہ اقتدار چھوڑنے کے بعد احمدی نژاد کے ایران کی مذہبی قیادت کے ساتھ اختلافات بڑھتے گئے، انہیں کئی انتخابات میں نااہل قرار دیا گیا اور ان کی نقل و حرکت محدود کردی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: ایران کے جواب کا چند روز انتظار کریں گے، معاہدے تک کوئی رعایت نہیں کریں گے: صدر ٹرمپ

رپورٹ کے مطابق 2019 میں ایک انٹرویو کے دوران احمدی نژاد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف بھی کی تھی اور ایران و امریکا کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی بات کی تھی۔

دوسری جانب اس رپورٹ پر مختلف ماہرین اور مبصرین نے شکوک و شبہات کا اظہار بھی کیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں نے اسے  ناقابل یقین  قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایک ایسے رہنما کی حمایت کرنا غیر منطقی دکھائی دیتا ہے جو ماضی میں اسرائیل کے خلاف سخت ترین مؤقف رکھتا تھا۔