امریکی محکمہ خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے اور امید ہے کہ جلد کسی نتیجے تک پہنچا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ فوری ترجیح آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت بحال کرنا ہے، جبکہ طویل المدتی مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ بھی شامل ہوگا۔
روبیو نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا امریکا کی بنیادی ترجیح ہے اور تہران کو جوہری ہتھیار نہ رکھنے کی پالیسی پر اتفاق کرنا ہوگا۔
پاکستان، قطر اور عمان کا سفارتی کردار
امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں پاکستان، قطر اور عمان بھی ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے تصدیق کی کہ تینوں ممالک فریقین کے درمیان رابطوں کو آسان بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قطر، پاکستان اور عمان مشترکہ طور پر دونوں ممالک کے درمیان پیغامات، تجاویز اور مسودوں کے تبادلے میں معاونت کر رہے ہیں، جبکہ فوری کوشش ایک ایسے عبوری حل تک پہنچنا ہے جس سے وسیع تر مذاکراتی عمل دوبارہ شروع ہو سکے۔
آبنائے ہرمز کھولنے کی توقع
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران جلد آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق کسی معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں اور معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت معمول پر آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق اس پیشرفت سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں بھی استحکام آئے گا کیونکہ متعدد تجارتی جہاز اس اہم سمندری راستے کے دوبارہ کھلنے کے منتظر ہیں۔
ٹرمپ کا مؤقف، ایران کی تردید
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ ان کے مطابق ان بات چیت کا مقصد پہلے آبنائے ہرمز کو کھولنا اور اس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کرنا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ ایران کے لیے ایک اہم موقع ہے اور موجودہ بحران کا حل صرف مذاکرات اور معاہدے کے ذریعے ممکن ہے۔
تاہم ایران نے ایک بار پھر امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تردید کی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران کی موجودہ بات چیت صرف عمان کے ساتھ ہو رہی ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانا ہے۔
پاکستان کی ثالثی
پاکستان حالیہ کشیدگی کے دوران مسلسل سفارتی رابطوں میں مصروف ہے اور اسلام آباد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان اور قطر امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ براہ راست مذاکرات کے لیے تاریخ اور مقام کے تعین میں بھی معاونت کر رہے ہیں۔
اس سے قبل پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایک مفاہمتی یادداشت کا فریم ورک سامنے آیا تھا، جس میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی، ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں اور مستقل امن سے متعلق مذاکرات کا خاکہ شامل تھا۔
مشرقِ وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم مرکز بن چکی ہے، جس کی بندش یا محدود سرگرمی نے عالمی منڈیوں میں تشویش پیدا کر رکھی ہے۔
حالیہ سفارتی کوششوں کا مقصد اسی مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال کرنا اور خطے میں پائیدار امن کے لیے سیاسی حل کی راہ ہموار کرنا ہے۔







