عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان نے ’لِنڈسے او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ 2026‘ کو 159 کے مقابلے میں 262 ووٹوں سے منظور کیا۔ امریکی سینیٹ اس قانون سازی کو 7 اگست کو 11 کے مقابلے میں 86 ووٹوں سے منظور کرچکی تھی۔
بل کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو روسی تیل اور گیس کے بڑے خریدار ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس شق کا مقصد روس کی توانائی سے حاصل ہونے والی آمدن پر دباؤ بڑھانا ہے، جسے یوکرین میں جنگ کے حوالے سے اہم مالی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
قانون سازی میں روس کے توانائی اور دفاعی شعبوں کے علاوہ روسی تیل کی برآمد کے لیے پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے والے ٹینکرز کے نام نہاد ’شیڈو فلیٹ‘ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ روسی حکام، مالیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ افراد و اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔
بل میں ایران سے متعلق امریکی پابندیوں کو توسیع دینے کی شق بھی شامل ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے سینیٹ میں بل کی حمایت سے متعلق دستاویز کے مطابق قانون سازی ایران پر موجودہ پابندیوں کے بعض اختیارات کو مزید پانچ سال تک برقرار رکھنے کی بھی اجازت دیتی ہے۔
قانون کے تحت روسی توانائی کے بڑے خریدار ممالک پر اضافی محصولات عائد کرنے کا اختیار صدر کے پاس ہوگا، جن میں چین اور انڈیا جیسے بڑے خریدار شامل ہیں۔ تاہم 100 فیصد ٹیرف ہر ملک پر خودکار طور پر نافذ نہیں ہوگا بلکہ اس کا اطلاق صدارتی فیصلے اور قانون میں مقرر شرائط سے مشروط ہے۔ قانون میں قومی مفاد کی بنیاد پر بعض پابندیوں سے استثنیٰ دینے کی گنجائش بھی موجود ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق انڈیا روسی خام تیل کے بڑے خریداروں میں شامل ہے، جبکہ چین بھی روسی توانائی کا اہم خریدار ہے۔ نئی قانون سازی کے باعث روسی تیل کی درآمد جاری رکھنے والے بڑے ممالک کو ممکنہ اضافی امریکی محصولات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
امریکی ایوان نمائندگان میں بل کو دونوں جماعتوں کے ارکان کی حمایت حاصل ہوئی، تاہم بعض ڈیموکریٹ ارکان نے صدر کو وسیع تر ٹیرف اختیارات دینے پر اعتراض کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ قانون کے ذریعے امریکی صدر کو اتحادی ممالک سمیت دیگر ریاستوں کے خلاف بھی وسیع تجارتی اختیارات حاصل ہوسکتے ہیں۔
روسی حکام کی جانب سے بھی نئی پابندیوں کے ممکنہ اثرات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ اگر امریکا روس پر مزید پابندیاں عائد کرتا ہے تو اس سے یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری امن کوششیں مزید مشکل ہوسکتی ہیں۔
دوسری جانب یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے قانون سازی کی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے۔ امریکی قانون سازی کو روس پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی کوششوں میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے، تاہم اس کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ صدر ٹرمپ نئے اختیارات کو کس حد تک استعمال کرتے ہیں۔
بل کی منظوری کے بعد اب یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کا منتظر ہے۔ دستخط کے بعد قانون میں شامل پابندیوں اور اضافی ٹیرف سے متعلق صدارتی اختیارات فعال ہوجائیں گے۔







