سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں امریکی وزیرِ کارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے بہادر عوام کی حمایت کرتا ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف مظاہرے دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں، جب کہ حکام نے عوامی رابطوں کو محدود کرنے کے لیے انٹرنیٹ سروسز پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
دوسری جانب ایک ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق 28 دسمبر سے شروع ہونے والے مظاہروں میں کم از کم 62 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز ایرانی قیادت کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آپ نے گولیاں چلانا شروع کیں تو ہم بھی گولیاں چلائیں گے۔
مزید پڑھیں: ایران میں شہریوں کے قتل پر امریکا خاموش نہیں رہے گا، صدر ٹرمپ
ایک اور بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایرانی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو نقصان پہنچایا تو امریکا بھرپور ردعمل دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم فوجی موجودگی کی بات نہیں کر رہے، بلکہ پوری شدت سے کارروائی کی بات کر رہے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ایسا ہو، مگر ہم تیار ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن ایران کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے جائز مطالبات کی حمایت کرتا ہے۔







