ترک میڈیا  کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے دوران پاکستان نے خاموش مگر مؤثر سفارت کاری کے ذریعے اہم کردار ادا کیا، پاکستان نے دیگر علاقائی قوتوں کے برعکس محتاط اور متوازن پالیسی اختیار کرتے ہوئے امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھے۔

رپورٹ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سفارتی کردار کو بھی نمایاں کیا گیا ہے، پاکستان کی عسکری قیادت نے روایتی تشہیر سے ہٹ کر بیک چینل ڈپلومیسی اور خاموش سفارتی روابط کو ترجیح دی، جس کے باعث کشیدہ حالات میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان رابطے منقطع نہیں ہوئے۔

ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، عسکری اور انٹیلیجنس صلاحیت، اور امریکا، ایران، چین، خلیجی ممالک اور ترکیہ کے ساتھ متوازن تعلقات نے اسلام آباد کو ایک منفرد سفارتی حیثیت دی ہے، پاکستان خطے میں اقتصادی راہداریوں، علاقائی روابط اور سیکیورٹی تعاون کے حوالے سے ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

میڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی تعاون نے بھی پاکستان کی علاقائی ساکھ کو مزید مضبوط کیا ہے جبکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے سخت مؤقف کو بھی عالمی سطح پر مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہیں: چینی صدر

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے آیا ہے جس پر مختلف فریق اعتماد کرتے ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کو اس سفارتی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی معاشی مشکلات پر قابو پانا ہوگا۔

دوسری جانب سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں امریکا، ایران، سعودی عرب، قطر اور ترکیہ سمیت کئی ممالک کی جانب سے پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کی جا چکی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ اگر پاکستان اپنی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی روابط کو اسی انداز میں برقرار رکھتا ہے تو وہ مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ سمیت دیگر عالمی تنازعات میں بھی اہم سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے۔