اپنے ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ان کے الفاظ کو نوٹ کر لیا جائے، امریکا نے ایرانی فریگیٹ "دینا" پر حملہ کرکے سنگین غلطی کی ہے اور اس اقدام کے نتائج اسے بھگتنا پڑیں گے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا نے ایران کے ساحل سے تقریباً دو ہزار میل دور سمندر میں ایرانی بحری جہاز کو نشانہ بنایا، کہ یہ حملہ بین الاقوامی قوانین اور سمندری اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ان کے مطابق ایرانی فریگیٹ "دینا" اس وقت بھارتی بحریہ کا مہمان تھا اور اس پر تقریباً 130 ایرانی سیلرز موجود تھ،واقعے کے وقت جہاز پر موجود عملے کو کسی قسم کی پیشگی وارننگ نہیں دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ حملے کے نتیجے میں جہاز پر سوار کئی سیلرز اچانک سمندر میں جا گرے، جس کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔ انہوں نے اس واقعے کو انسانی جانوں کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور بحری سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور اس معاملے کو عالمی سطح پر بھی اٹھایا جائے گا،اس واقعے نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داروں کو بے نقاب کیا جائے گا۔ دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس واقعے کی تصدیق ہوتی ہے تو اس سے خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکا اور اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے حملوں میں جان بوجھ کر شہری علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ
ایکس پر جاری ایک بیان میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ حملے عالمی منڈیوں کو متاثر کر رہے ہیں، جس کے باعث توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، کرنسیاں عدم استحکام کا شکار ہو رہی ہیں اور دنیا بھر میں بسنے والے عام لوگوں کی قوتِ خرید بُری طرح متاثر ہو رہی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’لیکن ہمارے لیے یعنی ایرانیوں کے لیے اس کی قیمت ناقابلِ بیان حد تک زیادہ ہے۔ ہمارے لوگوں کو بے رحمی سے قتل کیا جا رہا ہے کیونکہ حملہ آور جان بوجھ کر شہری علاقوں اور ایسی جگہوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جہاں زیادہ سے زیادہ تکلیف اور جانی نقصان ہو سکے۔‘
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت اور جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔
یاد رہے کہ خلیج اور بحرِ ہند کے پانیوں میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے باعث صورتحال پہلے ہی حساس ہے اور اس طرح کے واقعات خطے کے امن و استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔







