امریکی صدر بیجنگ میں ہونے والے اس اہم سربراہی اجلاس کے دوران چین پر زور دیں گے کہ وہ امریکی کمپنیوں کے لیے اپنی مارکیٹ کو مزید کھولے اور تجارتی و سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ کرے۔

ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ چینی قیادت کے ساتھ امریکی کاروباری اداروں کو بہتر رسائی دلانے کا معاملہ اٹھائیں گے، چین کی معیشت میں امریکی کمپنیوں کے لیے مزید مواقع پیدا کرنا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے ساتھ امریکی کاروباری شخصیات کا ایک بڑا وفد بھی موجود ہے جس میں ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبے کی نمایاں کمپنیوں کے ایگزیکٹوز شامل ہیں۔ ان میں معروف کمپنی اینویڈیا کے چیف ایگزیکٹو بھی شامل ہیں، جو چین میں اپنی جدید چپس کی فروخت اور مارکیٹ رسائی کے حوالے سے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اس دورے میں نہ صرف تجارت بلکہ حساس جغرافیائی سیاسی معاملات بھی زیر بحث آئیں گے جن میں ایران کی صورتحال، تائیوان اور دفاعی تعاون جیسے امور شامل ہیں۔

ادھر امریکی وزیر خزانہ نے بھی جنوبی کوریا میں چینی نائب وزیر اعظم کے ساتھ بیک وقت مذاکرات کیے ہیں تاکہ گزشتہ سال طے پانے والی عارضی تجارتی جنگ بندی کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر عائد بعض سخت تجارتی پابندیاں جزوی طور پر نرم کی تھیں۔

واشنگٹن کی جانب سے چین سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ بوئنگ طیاروں، زرعی مصنوعات اور توانائی کی خریداری میں اضافہ کرے جبکہ چین امریکی سیمی کنڈکٹرز اور جدید چپ ٹیکنالوجی پر عائد پابندیوں میں نرمی چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں: خطے کی بدلتی صورتحال، صدر ٹرمپ اور اماراتی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

واضح رہے کہ  یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہے اور دونوں بڑی طاقتیں تجارتی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم سیاسی اختلافات اب بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔

چین میں عوامی ردعمل ملے جلے تاثرات پر مشتمل ہے، کچھ حلقے اسے مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض مبصرین امریکی پالیسیوں پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔

بیجنگ میں ہونے والی یہ ملاقاتیں آئندہ دنوں میں عالمی تجارت اور جغرافیائی سیاست پر اہم اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔