برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق لیک ہونے والی اس آڈیو میں سر کرسچن ٹرنر نے اعتراف کیا کہ اگرچہ امریکا اور برطانیہ کے درمیان دفاع، تجارت اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں قریبی تعاون بدستور موجود ہے، تاہم عالمی سیاست میں آنے والی تیز رفتار تبدیلیاں اس تعلق کی نوعیت کو بدل رہی ہیں۔

سفیر کے مطابق ماضی میں امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کو "خصوصی" حیثیت حاصل تھی، لیکن اب یہ رشتہ نئی عالمی ترجیحات اور طاقت کے توازن کے باعث مختلف شکل اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اپنی خارجہ پالیسی میں ترجیحات کو ازسرنو ترتیب دے رہا ہے، جس کے اثرات اس کے دیرینہ اتحادیوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔

سر کرسچن ٹرنر نے مزید کہا کہ یورپ کو اب اپنی سکیورٹی کے لیے مکمل طور پر امریکا پر انحصار کرنے کے بجائے خودمختار حکمت عملی اپنانا ہوگی، موجودہ حالات میں امریکا کی خصوصی توجہ ایک ہی ملک پر مرکوز دکھائی دیتی ہے اور وہ اسرائیل ہے، جس کے ساتھ اس کے تعلقات غیر معمولی حد تک مضبوط ہیں۔

انہوں نے مغربی اتحادی ممالک پر زور دیا کہ وہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے دفاعی اور سفارتی ڈھانچوں کا ازسرنو جائزہ لیں، تاکہ مستقبل کے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: ایران نے اطلاع دی ہےکہ وہ تباہی کے دہانے پر ہے اور چاہتا ہے ہم جلد از جلد ہُرمز کھول دیں: ٹرمپ

دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ نے اس معاملے پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیک ہونے والے بیان میں پیش کیے گئے خیالات سفیر کی ذاتی رائے ہیں اور یہ برطانیہ کی سرکاری پالیسی کی عکاسی نہیں کرتے،امریکا اور برطانیہ کے درمیان تاریخی اور مضبوط تعلقات بدستور قائم ہیں اور دونوں ممالک مختلف عالمی امور پر قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ  یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی طاقتوں کے درمیان اتحاد اور ترجیحات تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں، اور اس طرح کے انکشافات مغربی دنیا کے اندرونی اختلافات کو بھی اجاگر کر سکتے ہیں۔