خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی کی جانب سے مرتب کردہ اندازوں اور اعداد و شمار کے مطابق یہ رقم دو ہزار چھبیس کے امریکی دفاعی بجٹ کے تقریباً ایک اعشاریہ دو تین فیصد کے برابر بنتی ہے۔
انادولو کے مطابق فوجی کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی ابتدائی چوبیس گھنٹوں میں امریکی افواج نے تقریباً سات سو اناسی ملین ڈالر خرچ کیے۔
بعد ازاں جیسے جیسے کارروائی میں وسعت آئی، اخراجات تیزی سے بڑھ کر اربوں ڈالرز تک پہنچ گئے۔ ان اخراجات میں پروازوں کے اوقات، دیکھ بھال کے اخراجات اور اسلحہ کے استعمال سے متعلق وہ تخمینے شامل ہیں جو امریکی محکمہ دفاع کے دو ہزار پچیس اور دو ہزار چھبیس کے بجٹ سے اخذ کیے گئے ہیں۔
ادھر مرکز برائے تزویراتی و بین الاقوامی مطالعات کے اعداد و شمار کے مطابق کارروائی کے ابتدائی ایک سو گھنٹوں کی لاگت تقریباً تین ارب تیس کروڑ ڈالر رہی، جب کہ یہی مدت اگر دس دن تک بڑھائی جائے تو مجموعی اخراجات کا تخمینہ تقریباً آٹھ ارب ڈالر تک پہنچ جاتا ہے۔
انادولو کے اندازوں کے مطابق آپریشنل اخراجات کے علاوہ ایران کی جانب سے امریکی فوجی سازوسامان کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے جس کی مالیت تقریباً دو ارب پچپن کروڑ ڈالر بتائی جا رہی ہے۔
سب سے بڑا نقصان العدید ایئر بیس، قطر میں نصب امریکی ابتدائی انتباہی ریڈار نظام کو پہنچا، جس کی مالیت تقریباً ایک ارب دس کروڑ ڈالر تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اٹھائیس فروری کو ایرانی میزائل حملے میں اس نظام کو نشانہ بنایا گیا، جس کی تصدیق قطری حکام نے بھی کی۔
ابتدائی جوابی کارروائی کے دوران ایران نے منامہ، بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا جس سے سیٹلائٹ مواصلاتی نظام اور متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
اوپن سورس انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق نشانہ بنائے گئے مواصلاتی ٹرمینلز کی مالیت تقریباً دو کروڑ ڈالرز بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کویت میں سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے تین تباہ شدہ ریڈار ڈھانچے بھی سامنے آئے ہیں، جس سے مزید تقریباً تین کروڑ ڈالرز کے نقصان کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
حملوں کے دوسرے روز ایک واقعے میں تین لڑاکا طیارے تباہ ہو گئے جب انہیں غلطی سے اتحادی فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنا دیا۔ اگرچہ تمام فضائی عملہ محفوظ رہا تاہم ان طیاروں کی تباہی سے تقریباً دو سو بیاسی ملین ڈالرز کا نقصان ہوا۔
امریکی حکام کے مطابق اس تنازعے کے دوران نگرانی کرنے والے چار ڈرون بھی مار گرائے گئے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً ایک سو بیس ملین ڈالرز بتائی جا رہی ہے۔ ان میں سے ایک ڈرون کو ایران کے صوبہ ہرمزگان میں مار گرائے جانے کی اطلاع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے نئے سپریم لیڈر کے بعد اسرائیل اور امریکی اڈوں پر تازہ حملے
مزید یہ کہ میزائل دفاعی نظام کے دو ریڈار اجزا متحدہ عرب امارات اور اردن میں الگ الگ حملوں میں تباہ ہوئے، جن میں سے ہر نظام کی قیمت تقریباً پانچ سو ملین ڈالرز بتائی جاتی ہے۔ بعض رپورٹس میں متحدہ عرب امارات میں ایک اور نظام کو نشانہ بنانے کا بھی ذکر ہے تاہم اس کی سرکاری تصدیق نہیں ہو سکی۔
امریکی محکمہ دفاع کے حکام نے کانگریس کو بتایا کہ صرف کارروائی کے پہلے ہفتے میں تقریباً چھ ارب ڈالر خرچ ہوئے، جن میں سے چار ارب ڈالر گولہ بارود اور جدید میزائل روکنے والے نظاموں پر خرچ کیے گئے۔
اس حساب سے یومیہ اوسط اخراجات تقریباً آٹھ سو ستاون ملین ڈالر بنتے ہیں، جس کے مطابق دس دن کی مجموعی لاگت تقریباً آٹھ ارب ستاون کروڑ ڈالر بنتی ہے۔ تاہم ان اعداد و شمار میں فوجی سازوسامان کے نقصانات شامل نہیں ہیں۔
مرکز برائے تزویراتی و بین الاقوامی مطالعات کے مطابق ابتدائی ایک سو گھنٹوں میں استعمال ہونے والے جنگی سازوسامان کی دوبارہ فراہمی پر تقریباً تین ارب دس کروڑ ڈالر خرچ ہوں گے، جبکہ اس مد میں روزانہ تقریباً سات سو اٹھاون ملین ڈالر مزید درکار ہوں گے۔
ادھر خطے میں تعینات امریکی بحری بیڑوں، جن میں یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ جیسے طیارہ بردار جہاز شامل ہیں، کو چلانے کے لیے بھی روزانہ تقریباً پندرہ ملین ڈالرز خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق اگر یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش کی قیادت میں ایک اور بحری بیڑہ بھی خطے میں تعینات کیا جاتا ہے تو اخراجات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
انادولو ایجنسی کے اندازے کے مطابق آپریشنل اخراجات تقریباً سات ارب اسی کروڑ ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ جب اس رقم کو فوجی سازوسامان کے نقصانات یعنی دو ارب پچپن کروڑ ڈالر کے ساتھ جمع کیا جائے تو مہم کے پہلے دس دنوں کی مجموعی امریکی لاگت تقریباً دس ارب پینتیس کروڑ ڈالر بنتی ہے، جو اوسطاً روزانہ ایک ارب تین کروڑ ڈالرز کے برابر ہے۔






