امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) نے اپنے بیان میں کہا کہ بحری نگرانی کے دوران چار تجارتی جہازوں کا راستہ تبدیل کیا گیا، ایک جہاز کو غیر فعال بنایا گیا جبکہ ایک پر کارروائی کرتے ہوئے اس پر چڑھائی بھی کی گئی۔ امریکی حکام نے ان اقدامات کو سمندری سلامتی برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی فضائی حملوں کا دائرہ اس مرتبہ جنوبی ساحلی علاقوں سے آگے بڑھتے ہوئے وسطی ایران تک پھیل گیا۔ مختلف مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ کئی فوجی اور حساس تنصیبات کو ہدف بنانے کی اطلاعات سامنے آئیں، حملوں کا یہ نیا مرحلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازع ایک زیادہ خطرناک رخ اختیار کر رہا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق ہرمزگان، بوشہر، یزد، فارس، اہواز، قشم جزیرے اور سیریک سمیت متعدد علاقوں میں امریکی حملوں کے بعد ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی، ہرمزگان میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں کم از کم تین افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے۔ یزد کے قریب گرنے والے ایک امریکی میزائل سے مالی نقصان ہوا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہری تنصیبات پر حملوں کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں اور فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کریں تاکہ خطہ کسی بڑے انسانی بحران سے محفوظ رہ سکے۔

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی فورس نے بوشہر کے قریب ایک امریکی ایم کیو-9 ڈرون کو مار گرایا، بحرین میں امریکی فوج سے وابستہ ایک ڈرون ڈپو اور مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں امریکی حمایت یافتہ چار آئل ٹینکروں کو میزائل اور ڈرون کارروائیوں کے ذریعے روک دیا گیا، جبکہ دو ٹینکروں میں بارودی سرنگوں والے علاقے سے گزرنے کے بعد آگ لگنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

ایران نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے خلیجی خطے میں امریکی اتحادیوں سے متعلق مختلف اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان دعوؤں کے بعد کویت، بحرین، قطر اور اردن میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے اور کئی علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔ کویتی حکام نے چند فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی، جبکہ اردن نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے متعدد میزائل مار گرانے کا اعلان کیا۔ قطر میں راکٹ کے ملبے سے ایک بچے کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی، جبکہ سعودی عرب نے الخرج اور ینبع میں جاری حفاظتی انتباہ بعد ازاں ختم کر دیا۔

اسی دوران سامنے آنے والی نئی سیٹلائٹ تصاویر میں بوشہر کے جوہری کمپلیکس کو پہنچنے والے مزید ممکنہ نقصان کے آثار بھی دکھائی دیے ہیں، تاہم ان تصاویر کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔

مزید پڑھیں: قطر نے ایران کیخلاف فوجی کارروائی میں شامل ہونے کی اسرائیلی میڈیا کی خبروں کو مسترد کر دیا

دوسری جانب غزہ میں بھی اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری رہیں۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق نصیرات پناہ گزین کیمپ میں جنازے کے دوران ہونے والے حملے میں کم از کم سات فلسطینی جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے، جس کے بعد علاقے میں انسانی صورتحال مزید سنگین ہوگئی۔

واضح رہے  کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کارروائیاں اسی رفتار سے جاری رہیں تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرق وسطیٰ، عالمی تیل کی رسد، آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری تجارت اور بین الاقوامی معیشت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ عالمی برادری کی توجہ اس وقت اس امر پر مرکوز ہے کہ آیا سفارتی کوششیں اس تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے میں کامیاب ہو پاتی ہیں یا نہیں۔