ملاقات کے بعد دونوں امریکی ایلچی اتوار کو یوکرین کے دارالحکومت کیف روانہ ہوگئے، جہاں وہ یوکرینی حکام سے بھی جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کریں گے۔
سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر روسی دارالحکومت ماسکو پہنچے تھے تاکہ 2022 میں روسی حملے کے بعد شروع ہونے والی یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات کو آگے بڑھایا جاسکے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ امریکی ایلچیوں نے پوتن سے ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ کے ’امن ایجنڈے‘ کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی۔ ان کے مطابق دونوں فریقوں نے آئندہ اقدامات سے متعلق ٹھوس منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا، جن کا اعلان آنے والے ہفتوں میں کیا جائے گا۔
کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے مذاکرات کو ’انتہائی واضح اور دوٹوک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فریق نے جنگ کے تصفیے کے ممکنہ راستوں سے متعلق متعدد تجاویز پیش کیں، تاہم انہوں نے ان کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
یوری اوشاکوف کے مطابق روسی فریق نے امریکی ایلچیوں کو بتایا کہ ماسکو کو یقین ہے کہ وہ اپنے فوجی اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جن میں مشرقی یوکرین کے باقی ماندہ علاقوں پر قبضہ بھی شامل ہے۔
مذاکرات کے دوران روس اور یوکرین نے تین روز کے لیے ایک دوسرے کے دارالحکومتوں پر حملے نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق روسی صدر اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر نے آدھی رات سے تین دن تک کیف پر حملہ نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرین بھی ماسکو پر حملے نہ کرنے کے لیے تیار ہے اور یہ عہد اتوار اور پیر سمیت ہفتے کے اختتام تک برقرار رہے گا۔
یہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا جنگ شروع ہونے کے بعد ماسکو کا آٹھواں دورہ ہے، تاہم پہلی مرتبہ وہ کیف پہنچ رہے ہیں۔ زیلنسکی نے امریکی ایلچیوں کی اتوار کو یوکرین آمد کی توقع ظاہر کی ہے۔
مذاکرات سے قبل صدر پوتن نے کہا کہ روس کیف میں امریکی ایلچیوں کی سلامتی یقینی بنائے گا۔ اس سے قبل انہوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھنے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کام آسان نہیں ہے۔
ادھر یوکرینی صدر زیلنسکی نے روس پر الزام عائد کیا کہ اس نے امریکی ایلچیوں کے دورے کو متاثر کرنے کے لیے رات بھر کیف کے دو ہوائی اڈوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
زیلنسکی کے مطابق ہفتے کے روز روسی حملوں میں یوکرین بھر میں 10 افراد ہلاک ہوئے، جن میں خارکیف کے علاقے میں ایک بچہ اور اس کے خاندان کے افراد بھی شامل تھے، جبکہ کیف کے نواح میں بھی دو افراد ہلاک ہوئے۔
2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں لاکھوں افراد ہلاک یا بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ حالیہ مہینوں میں شہری علاقوں پر حملوں میں اضافے کے باعث جنگ مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔







