عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شمالی عراق میں موجود ایرانی کرد ملیشیاؤں نے حالیہ دنوں میں امریکہ کے ساتھ اس حوالے سے مشاورت کی ہے کہ آیا وہ مغربی ایران میں سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں شروع کریں یا نہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل ایران پر فضائی حملے کر رہے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ سی آئی اے اور موساد ایرانی کردوں کو اسلحہ فراہم کرکے ایران کے خلاف استعمال کرنے کے لیے تیار کررہے ہیں۔
شام کے کردوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر ایرانی کردوں کو خبردار کیا ہے۔ قمشلی کے ایک رہائشی سعد علی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران کے کرد امریکا کے ساتھ اتحاد نہیں کریں گے کیونکہ آخر میں امریکاانہیں چھوڑ دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کل امریکا اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ ہو گیا تو امریکا اپنے مفادات کے لیے کردوں کو قربان کر دے گا، اس لیے ایرانی کردوں کو شامی کردوں کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔
خیال رہے کہ شامی کرد جنگجو ایک دہائی قبل امریکا کے ساتھ مل کر اسلامک اسٹیٹ کے خلاف لڑے تھے اور اس کے بعد انہوں نے اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں نیم خودمختار انتظامیہ قائم کر لی تھی۔
رواں سال جنوری میں شام کی نئی فوج نے صدر احمد الشعراء کی قیادت میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے زیادہ تر کرد علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔
اس دوران شامی کردوں نے امریکا سے مداخلت کی درخواست کی تھی، لیکن واشنگٹن نے ان کی مدد کے بجائے انہیں شامی حکومت کی افواج میں ضم ہونے کا مشورہ دیا، جسے کرد حلقوں میں ایک تلخ تجربہ سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: نئے سپریم لیڈر کو واشنگٹن کی حمایت حاصل نہ ہوئی تو وہ زیادہ عرصہ اقتدار میں نہیں رہ سکے گا: امریکا
قمشلی کے ایک نوجوان کرد امجد کاردو کا کہنا ہے کہ ایرانی کردوں کو چاہیے کہ وہ کسی بھی فوجی کارروائی سے پہلے امریکا سے اپنے مستقبل کے حوالے سے واضح اور تحریری ضمانتیں حاصل کریں۔
ایک ایرانی کرد ذریعے کے مطابق ایرانی کرد قیادت کو بھی اس بات کا خدشہ ہے کہ کہیں انہیں بھی شام کے کردوں کی طرح بعد میں نظر انداز نہ کر دیا جائے، اسی لیے انہوں نے امریکا سے بعض ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر کرد جنگجو شمالی عراق سے ایران میں داخل ہو جائیں تو یہ بہت اچھا ہوگا، تاہم بعد میں انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کرد جنگجو ایران میں داخل ہوں۔
شام میں کرد ترقی پسند جمہوری پارٹی کے سربراہ احمد برکات نے بھی ایرانی کردوں کو انتہائی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی دعوت قبول کر کے ایران کے خلاف محاذ کا اگلا دستہ بننا اس وقت ایرانی کردوں کے مفاد میں نہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل بھی گزشتہ ایک سال سے عراقی کردستان میں موجود ایرانی کرد باغی گروپوں کے ساتھ رابطوں میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے تہران میں وسیع حملے، سپریم لیڈر شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے ہر جانشین کا تعاقب کیا جائے گا ، اسرائیلی فوج
واضح رہے کہ کرد ایک نسلی گروہ ہیں جو ایک صدی قبل سلطنت عثمانیہ کی تحلیل کے بعد وجود میں آنے والی سرحدوں کے باعث مختلف ممالک میں تقسیم ہو گئے۔
یہ زیادہ تر سنی مسلمان ہیں اور ان کی آبادی ترکی، عراق، ایران اور شام کے سرحدی پہاڑی علاقوں میں آباد ہے۔ عراق میں انہیں علاقائی حکومت حاصل ہے، لیکن دیگر ممالک میں ان کے خودمختار خطے یا ریاست کے مطالبات ابھی تک پورے نہیں ہو سکے۔







