ایک امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور حالیہ واقعات کے تناظر میں ایران اپنی دفاعی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے،اگر حالات کا تقاضا ہوا تو ایران میزائل حملوں کا سلسلہ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق ایران کی پالیسی واضح ہے کہ جب تک اس کی سلامتی اور خودمختاری کو خطرہ لاحق رہے گا، اس وقت تک کسی بھی قسم کی سفارتی پیش رفت مشکل ہو گی،ایران خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا، تاہم کسی بھی حملے یا دباؤ کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے خارجہ پالیسی مشیر کمال خرازی نے بھی کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ سفارت کاری کی گنجائش تقریباً ختم ہو چکی ہے اور ایران کی مسلح افواج کسی بھی طویل جنگی صورتحال کے لیے تیار ہیں۔
کمال خرازی کا کہنا تھا کہ ایران اپنی علاقائی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کے خلاف دباؤ بڑھانے کی کوششیں خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔
ادھر پاسداران انقلاب ایران نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاری کشیدگی کے خاتمے کا فیصلہ ایران خود کرے گا۔ تنظیم کے مطابق اگر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملے جاری رہے تو خطے میں تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔
ان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے خلاف عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو خطے سے تیل کی برآمدات شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم راستوں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی تو سخت جواب ملے گا: ٹرمپ کی ایران کو وارننگ
ایرانی حکام نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں سلامتی کا اصول سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بعض ممالک ایران کے خلاف پالیسی اختیار کرتے ہیں تو اس کے اثرات پورے خطے کی صورتحال پر پڑ سکتے ہیں۔
پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ خطے میں استحکام اسی وقت ممکن ہے جب تمام ممالک کے لیے یکساں سلامتی کو یقینی بنایا جائے، موجودہ صورتحال میں سفارتی اور عسکری دونوں محاذوں پر فیصلے ایران کے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔







