وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کی عسکری صلاحیت کے حوالے سے بھی بڑے دعوے کیے کہ  ایران کی فوجی طاقت کو نمایاں حد تک کمزور کر دیا گیا ہے اور اب اس کے پاس نہ مؤثر بحریہ رہی ہے، نہ فضائیہ اور نہ ہی جدید ریڈار سسٹمز موجود ہیں۔

صدر ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ حالیہ کارروائیوں کے دوران سمندر میں ایران کے 159 جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں اور وہ ایران کے ساتھ کسی بڑی جنگ کے حامی نہیں ہیں۔ ان کے بقول امریکا جنگ سے گریز چاہتا ہے لیکن اپنی سلامتی اور مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو مستقبل میں ایسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن کا وہ اندازہ بھی نہیں لگا سکتا، تاہم ساتھ ہی امید ظاہر کی کہ کشیدگی میں کمی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی استحکام آئے گا۔

امریکی صدر  نے عالمی سفارتکاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شی جن پنگ سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ جلد چین کا دورہ کرنا چاہتے ہیں، جو دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستانی کوششوں سے ایران اور امریکا کے درمیان بات چیت میں پیش رفت دیکھنے میں آرہی ہے، عباس عراقچی

اپنے خطاب میں انہوں نے داخلی امور پر بھی اظہار خیال کیا اور سپریم کورٹ کے ٹیرف سے متعلق حالیہ فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ غیر مؤثر ہے، تاہم حکومت نے پالیسی میں معمولی رد و بدل کے ذریعے محصولات کی وصولی کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے، اس قسم کے بیانات خطے میں سفارتی ماحول پر اثرانداز ہو سکتے ہیں اور آئندہ دنوں میں اس کے مزید اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔