امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ خصوصی پاسپورٹس محدود تعداد میں جاری کیے جائیں گے اور انہیں یادگاری حیثیت حاصل ہوگی،اس نئے ڈیزائن کا مقصد ملک کی تاریخی وراثت اور اہم قومی شخصیات کو اجاگر کرنا ہے، جبکہ اس میں جدید سیکیورٹی فیچرز بھی برقرار رکھے گئے ہیں۔
پاسپورٹ کے اندرونی صفحات میں ایک جانب صدر ٹرمپ کا پورٹریٹ شامل کیا گیا ہے، جبکہ دوسرے صفحے پر 1776 میں اعلانِ آزادی پر دستخط کا تاریخی منظر دکھایا گیا ہے۔ اس ڈیزائن کو امریکا کی تاریخ اور موجودہ قیادت کے امتزاج کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
ترجمان محکمہ خارجہ نے مزید بتایا کہ یہ یادگاری پاسپورٹس جولائی میں باضابطہ طور پر دستیاب ہوں گے، جب امریکا اپنی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہا ہوگا۔ تاہم یہ ابھی واضح نہیں کیا گیا کہ آیا شہریوں کے لیے اس خصوصی ڈیزائن کو قبول کرنا لازمی ہوگا یا وہ روایتی پاسپورٹ کے انتخاب کا اختیار رکھیں گے۔
اس یادگاری پاسپورٹ کے اجرا پر شہریوں سے کوئی اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی، اور اسے عام پاسپورٹ کے مساوی ہی تصور کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: ’میری والدہ کو نوجوان چارلس پسند تھے‘، ٹرمپ کا دلچسپ انکشاف
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مختلف سرکاری اشیا اور منصوبوں میں صدر کی شناخت کو نمایاں کیا گیا ہے، جن میں یادگاری سکے، کرنسی پر دستخط اور دیگر علامتی اقدامات شامل ہیں۔ ناقدین ان اقدامات کو غیر معمولی قرار دیتے ہیں، جبکہ حامیوں کے نزدیک یہ قومی شناخت کو اجاگر کرنے کی کوشش ہے۔
واضح رہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف ملکی سیاست میں بحث کو جنم دیتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی امریکا کے امیج اور روایات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہیں۔ تاہم یہ فیصلہ بلاشبہ امریکا کی 250 سالہ تاریخ کو منفرد انداز میں منانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔







