شمالی کوریا کے نائب وزیرِ خارجہ کم اُن چول نے جمعرات کے روز جاری بیان میں کہا کہ امریکا نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ "ڈیموکریٹک پیپلز ری پبلک آف کوریا (ڈی پی آر کے)" کے خلاف آخر تک دشمنی کی پالیسی پر گامزن ہے۔
بیان امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے آٹھ افراد اور دو کمپنیوں پر پابندیاں عائد کیے جانے کے دو روز بعد سامنے آیا۔ ان افراد میں شمالی کوریائی بینکرز بھی شامل ہیں جن پر مبینہ طور پر سائبر جرائم سے حاصل رقوم کو منی لانڈرنگ کے ذریعے چھپانے کا الزام ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق شمالی کوریا نے گزشتہ تین برسوں میں ریاستی سرپرستی میں ہونے والے ہیکنگ اسکیمز کے ذریعے تین ارب ڈالر سے زائد کے ڈیجیٹل اثاثے چُرائے، جو کسی بھی دوسرے غیر ملکی گروہ کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہیں۔ ان رقوم کو شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیا گیا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق شمالی کوریا ایک وسیع مالیاتی نیٹ ورک کے ذریعے، جس میں چین، روس اور دیگر ممالک کے نمائندے شامل ہیں، غیر قانونی ذرائع سے حاصل شدہ رقم کو بینکوں اور جعلی کمپنیوں کے ذریعے منتقل کرتا ہے۔
دوسری جانب نائب وزیرِ خارجہ کم اُن چول نے کہا کہ امریکی دباؤ یا پابندیاں شمالی کوریا کے "اسٹریٹجک مؤقف یا سوچ" میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اب جب کہ موجودہ امریکی انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ڈی پی آر کے کے خلاف دشمنی پر قائم رہے گی، تو ہم بھی مناسب جوابی اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں، چاہے اس میں جتنا وقت لگے۔
مزید پڑھیں: چین نے امریکی اشیا پر عائد 24 فیصد اضافی ٹیرف ایک سال کے لیے معطل کر دیا
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں شمالی کوریائی رہنما کم جونگ اُن سے مذاکرات بحال کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان 2019 میں شروع ہونے والے جوہری مذاکرات اُس وقت تعطل کا شکار ہو گئے تھے جب شمالی کوریا پر عائد امریکی پابندیوں میں نرمی کے بدلے اس کے جوہری پروگرام کے خاتمے پر اتفاق نہیں ہو سکا تھا۔
ماہرین کے مطابق شمالی کوریا نے امریکا اور جنوبی کوریا سے رابطے منقطع کر کے اب اپنی خارجہ پالیسی کا مرکز روس کو بنا لیا ہے اور یوکرین جنگ میں صدر پیوٹن کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔







