ایرانی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے بھیجے گئے حالیہ پیغام کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بعض اہم اختلافات میں جزوی کمی آئی ہے، تاہم تہران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اعتماد سازی کے لیے واشنگٹن کو دھمکی آمیز بیانات اور جنگی دباؤ کی پالیسی ترک کرنا ہوگی۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران مذاکراتی عمل کو سنجیدگی، احتیاط اور نیک نیتی کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے، لیکن ماضی کے تجربات کی وجہ سے تہران کو امریکا کے ارادوں پر اب بھی منطقی تحفظات لاحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی اولین ترجیح خطے میں جاری کشیدگی اور تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران اپنے منجمد مالی اثاثوں کی بحالی اور ایرانی تجارتی و تیل بردار جہازوں کے خلاف کارروائیوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کر رہا ہے۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ بعض مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے پھیلائی جانے والی قیاس آرائیاں حقیقت پر مبنی نہیں، اور ایران اپنے مؤقف پر قائم ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر تنازعات بھی زیر غور ہیں، کیونکہ ایران خطے میں وسیع پیمانے پر امن و استحکام چاہتا ہے،  مذاکرات کی حساس نوعیت کے باعث تمام تفصیلات صرف مجاز حکام اور مذاکراتی ٹیم ہی مناسب وقت پر جاری کرے گی۔

مزید پڑھیں: ایرانی حکومت دفاعی قوت بڑھانے کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گی: صدر مسعود پزشکیان

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ جاری رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی بنیادی خواہش یہ ہے کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے، امریکا ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر پر سخت نگرانی چاہتا ہے تاکہ خطے میں سیکیورٹی خدشات کو کم کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ  حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی میں کمی اور کسی ممکنہ مفاہمت کی طرف پیش رفت کے خواہاں ہیں، تاہم اعتماد کے فقدان، علاقائی تنازعات اور جوہری پروگرام جیسے معاملات اب بھی مذاکرات میں بڑی رکاوٹ سمجھے جا رہے ہیں۔