برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرمپ نے بدھ کو ڈلاس میں ریپبلکن نیشنل کنویشن کے لیے روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں انتخابات کے فوراً بعد ایران جنگ ختم ہوجائے گی کیونکہ ایران اب مزید مقابلہ نہیں کرسکتا۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران انتخابات پر اثرانداز ہونے کی بے حد کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایران پر ڈالے گئے معاشی دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران اس دباؤ کے سامنے مزید نہیں ٹھہر سکے گا۔

اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کی گئی جنگ ساتویں ماہ میں داخل ہوچکی ہے، تاہم فوری طور پر اس کے خاتمے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔

بدھ کو ایران کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب 10 جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد امریکہ نے اس کے پانچ آئل ٹینکرز ڈبو دیے۔

لڑائی کی تازہ لہر کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں اور خام تیل کی قیمت جولائی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی ہے۔

حالیہ عرصے کے دوران صدر ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین سطح پر پہنچی ہے، جس کی بڑی وجہ ایران کے ساتھ جنگ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر ووٹرز میں پائی جانے والی تشویش ہے۔

رواں برس 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کو عام طور پر صدر کی کارکردگی کے حوالے سے عوامی رائے کا اظہار سمجھا جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں یہ بھی کہا کہ وسط مدتی انتخابات ختم ہوتے ہی جب ایران جنگ ختم ہوگی تو تیل کی قیمتیں کم ہوجائیں گی۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ سفارتی مذاکرات کا امکان اب بھی موجود ہے، تاہم یہ فی الحال ان کی ترجیح نہیں ہے۔

ٹرمپ کے مطابق مذاکرات ممکن ہیں، لیکن امریکہ اس وقت اس آپشن پر غور نہیں کر رہا۔