دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی بستیوں کا مسلسل پھیلاؤ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

بیان کے مطابق ایسے اقدامات نہ صرف دو ریاستی حل کے حصول کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ خطے میں امن اور استحکام کو بھی کمزور کر رہے ہیں۔

دفترِ خارجہ نے کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن سمیت دیگر ممالک کی جانب سے بھی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف اسی نوعیت کے اقدامات پر غور کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔

پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ ان اقدامات سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی سرگرمیوں کو مسترد کیے جانے کا واضح اور دوٹوک پیغام جائے گا۔

یاد رہے کہ برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت وہاں کے آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف ’نسل کشی‘ پر چشم پوشی کر رہی ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے منگل کو پارلیمان سے خطاب میں کہا کہ یہ اقدام اسرائیل فلسطین تنازع کے حوالے سے ’ایک نئے طرزِ عمل کی شروعات‘ ہے، جو صرف ناانصافی اور تکلیف کی نشاندہی نہیں کرتا بلکہ عملی اقدام بھی کرتا ہے۔

برطانیہ کی پابندیوں کے تحت بستیوں میں تیار ہونے والی مصنوعات پر پابندی عائد کی جائے گی، جبکہ بستیوں کی توسیع کے لیے خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

یہ پابندیاں فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر متعارف کرائی گئی ہیں۔ تینوں ممالک نے مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ اقدام دو ریاستی حل کے تحفظ کے لیے ان کے طرزِ عمل میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔

بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیاں غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں، جبکہ حالیہ مہینوں میں مغربی کنارے میں آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔