عالمی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق یہ واقعہ 1926 کا ہے، جب پیرس میں ایک ہوٹل کی چیمبر میڈ سوزان شِلٹز معمول کے مطابق ایک کمرہ صاف کررہی تھیں۔ کمرے میں دو نوجوان افراد ٹھہرے ہوئے تھے۔ صفائی کے دوران سوزان کی نظر ان کے سوٹ کیس میں پڑے ایک سیب پر گئی۔
بھوک لگی تو انہوں نے سیب اٹھایا اور ایک نوالہ لیا۔ لیکن اگلے ہی لمحے ان کے دانت کسی انتہائی سخت چیز سے ٹکرائے۔ سیب کے اندر چھپا ہوا تھا 9.01 قیراط کا گلابی ہیرا، ’گرینڈ کونڈے‘۔
یہ کوئی عام ہیرا نہیں تھا۔ یہ فرانس کے نایاب ترین اور تاریخی قیمتی جواہرات میں شمار ہوتا تھا اور اس وقت پولیس پورے یورپ میں اسی ہیرے کی تلاش کررہی تھی۔
اس واقعے سے تقریباً دو ماہ قبل فرانس کے تاریخی قلعے شاتو دے شانتیلی میں ایک حیران کن چوری ہوئی تھی۔
پیرس سے تقریباً 50 کلومیٹر شمال میں واقع اس قلعے کے میوزیم سے 75 سے زائد زیورات چوری کرلیے گئے تھے، جن کی اس وقت مالیت تقریباً 30 لاکھ ڈالر تھی۔ چوری کا انداز ایسا تھا کہ پولیس کو شبہ ہوا کہ یہ کسی ماہر اور تربیت یافتہ گروہ کا کام ہے۔

لیکن حقیقت اس سے بالکل مختلف نکلی۔ چور دو نوجوان سابق فرانسیسی فضائی اہلکار، لیون کاؤفر اور ایمائل سوتر تھے۔ دونوں نے صرف چند سیڑھیوں کی مدد سے قلعے میں داخل ہوکر زیورات چرا لیے تھے۔
مسئلہ یہ تھا کہ اتنی بڑی واردات کے باوجود وہ چوری شدہ زیورات آسانی سے فروخت نہیں کرسکے۔ دونوں صرف تقریباً 30 ہزار فرانک مالیت کا مال فروخت کرنے میں کامیاب ہوئے۔
ان کی سب سے بڑی غلطی گرینڈ کونڈے ہیرے کو چرانا تھی۔ یہ گلابی ہیرا اتنا مشہور تھا کہ یورپ کا تقریباً ہر بڑا جیولر اسے پہچان سکتا تھا۔ کوئی بھی سنار اسے خریدنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا، کیونکہ فوراً پولیس کی نظر اس پر پڑ جاتی۔
اسی وجہ سے چوروں کے لیے یہ ہیرا دولت سے زیادہ ایک بوجھ بن گیا۔ آخرکار انہوں نے اسے سیب کے اندر چھپا دیا اور یہی فیصلہ ان کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔
گرینڈ کونڈے ہیرا تقریباً 1740 سے کونڈے خاندان کی ملکیت تھا۔ اس کی اصل جگہ آج بھی مکمل طور پر معلوم نہیں۔ اس کے ممکنہ ماخذ انڈیا، بورنیو اور برازیل تک بتائے جاتے ہیں۔
فرانس پہنچنے کے بعد یہ ہیرا لوئی ہنری دے بوربون، پرنس آف کونڈے کی ملکیت بنا، جو 1723 سے 1726 تک فرانس کے وزیراعظم بھی رہے۔ ابتدا میں یہ ہیرا آرڈر آف دی گولڈن فلیس کے ایک تمغے میں نصب تھا، بعد میں اسے نکال کر انگوٹھی میں لگا دیا گیا۔
کونڈے خاندان میں اس ہیرے کی اہمیت اتنی زیادہ تھی کہ ایک تحریری حکم کے تحت خاندان کے ہر بڑے بیٹے کو وراثت میں اس ہیرے کا حق حاصل تھا یعنی یہ صرف ایک قیمتی پتھر نہیں بلکہ خاندان کی علامتی اور تاریخی میراث تھا۔
اس تاریخی چوری کو اب ایک صدی مکمل ہونے جارہی ہے۔ اسی مناسبت سے اکتوبر 2026 میں شاتو دے شانتیلی میں گرینڈ کونڈے ہیرے کو عوام کے سامنے نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔
یہ تقریباً ایک صدی بعد پہلی مرتبہ ہوگا کہ یہ نایاب گلابی ہیرا کسی بڑی عوامی نمائش میں دکھایا جائے گا اور اس بار اسے چوری سے محفوظ رکھنے کے لیے اس کی سائنسی شناخت بھی مکمل کی گئی ہے۔

فرانس، کینیڈا اور سوئٹزرلینڈ کے ماہرینِ جواہرات نے اس ہیرے کی کیمیائی ساخت، شفافیت، کثافت اور دیگر خصوصیات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔
مقصد یہ ہے کہ اس ہیرے کی ایک ایسی سائنسی شناخت تیار کی جائے جسے ماہرین ’شناختی کارڈ‘ قرار دے رہے ہیں تاکہ اگر یہ دوبارہ کبھی چوری ہو تو اسے فروخت کرنا تقریباً ناممکن ہوجائے۔
گرینڈ کونڈے کی کہانی صرف ایک ہیرے کی چوری کی داستان نہیں۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس میں ایک سیب، ایک بھوکی ہوٹل ملازمہ اور ایک تاریخی ہیرا مل کر فرانس کی سب سے دلچسپ چوریوں میں سے ایک کا راز کھول دیتے ہیں۔
اس پوری کہانی کا سب سے حیران کن حصہ یہی ہے کہ دو ماہر چوروں کی واردات کا پردہ کسی جاسوس نے نہیں بلکہ سیب کے ایک نوالے نے فاش کیا تھا۔







