تفصیلات کے مطابق شی جن پنگ بدھ کو مصر پہنچے، جہاں مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے قاہرہ میں ان کا شاندار استقبال کیا۔ یہ تقریباً 10 سال بعد چینی صدر کا مصر کا پہلا دورہ ہے۔

چینی صدر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران کے خلاف امریکی جنگ کے باعث خطے میں تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، جب کہ ایران سمیت دیگر ممالک مشرقِ وسطیٰ خصوصاً خلیجی ریاستوں میں امریکی موجودگی اور مداخلت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق شی جن پنگ نے عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں نئے سکیورٹی نظام کی تشکیل کے لیے چار نکاتی تجویز پیش کی۔

چینی صدر نے کہا کہ خطے میں مشترکہ، جامع، باہمی تعاون پر مبنی اور پائیدار سکیورٹی کے وژن کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اپنے وسائل بروئے کار لائیں، مشترکہ اور مربوط حکمت عملی اختیار کریں، ترقی کی بنیاد مضبوط بنائیں اور بین الاقوامی تعاون و رابطہ کاری کو بہتر کریں۔

شی جن پنگ نے خطے کے ممالک کی جانب سے اچھی ہمسائیگی کے اصول پر مبنی دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی کوششوں کی حمایت کا بھی اعلان کیا۔

ملاقات کے دوران مصر اور چین نے سکیورٹی تعاون کو وسعت دینے اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے مشترکہ کوششیں بڑھانے پر اتفاق کیا۔

چینی صدر نے آبنائے ہرمز اور باب المندب میں کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے بحران کے تناظر میں علاقائی جہاز رانی کے راستوں کے تحفظ کے لیے بھی مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کی پیشکش کی۔

رائٹرز کے مطابق مصر روایتی طور پر امریکا کا اہم اتحادی ہے اور واشنگٹن سے سالانہ تقریباً 1.3 ارب ڈالر کی فوجی امداد حاصل کرتا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں قاہرہ نے چین کے ساتھ اقتصادی اور عسکری تعاون میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے شی جن پنگ کے دورے سے قبل اپنے ایک مضمون میں کہا تھا کہ عالمی مسابقت کے موجودہ دور میں مصر اسٹریٹجک توازن کی پالیسی پر گامزن ہے۔

سابق مصری سفارت کار ایمن زین الدین نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ مصر عالمی طاقتوں، بالخصوص چین، کے ساتھ اپنے تعلقات کا دائرہ وسیع کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب چین بھی خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے اور امریکی بالادستی کم کرنے کے لیے مصر کو اہم اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے۔

مصر اور چین کے بڑھتے ہوئے عسکری تعلقات کا مظاہرہ گزشتہ ماہ ’ایگلز آف سویلائزیشن‘ کے نام سے ہونے والی مشترکہ فضائی مشقوں میں بھی ہوا، جس میں چینی ساختہ جے-16 اور فرانسیسی ساختہ رافیل لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا۔

دونوں ممالک کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق شی جن پنگ کے دورے کے دوران ڈیٹا سینٹرز، سیمی کنڈکٹرز اور اہم دھاتوں کی سپلائی چین میں تعاون بڑھانے کے ساتھ باہمی تجارت اور سرمایہ کاری میں مقامی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 11 کروڑ سے زائد آبادی اور نہر سویز جیسے اہم تجارتی راستے کے حامل مصر کو چین ایک بڑی منڈی سمجھتا ہے۔ مصر نے رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران چین سے 10 ارب ڈالر کی اشیا درآمد کی ہیں۔

مصر اور چین کے درمیان اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے معاہدے پر 2014 میں دستخط ہوئے تھے، جس کے بعد مصر میں چینی سرمایہ کاری میں تیزی آئی۔ چینی کمپنیاں مصر میں کنٹینرز، گرین ہائیڈروجن منصوبوں، لوہے کے پائپ، ٹائر اور سیٹلائٹ کی تیاری کے منصوبوں پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں۔

مصری حکومت کے مطابق سوئز کینال اکنامک زون میں اب تک تقریباً 4 ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری ہوچکی ہے۔ بدھ کو مصری حکام نے چینی تعاون سے قائم صنعتی علاقے کو مزید وسعت دینے کا اعلان کیا، جب کہ ایک چینی کمپنی نے 50 کروڑ ڈالر کی لاگت سے ٹائر بنانے کا کمپلیکس قائم کرنے کے ابتدائی معاہدے پر بھی دستخط کیے۔