امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکی فضائی اور اسٹریٹجک حملوں کے دوران ایران کے تقریباً 90 فیصد دفاعی صنعتی مراکز تباہ یا ناکارہ بنائے جا چکے ہیں،ان حملوں نے ایران کی عسکری پیداوار، اسلحہ سازی اور سپلائی نیٹ ورک کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کو اپنے دفاعی انفرااسٹرکچر کی بحالی میں طویل وقت درکار ہوگا اور موجودہ حالات میں تہران کے لیے اپنی سابقہ عسکری طاقت بحال کرنا انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے۔
ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکی کارروائیوں کے بعد ایران کی بڑے پیمانے پر حملے کرنے کی صلاحیت نمایاں طور پر کمزور ہوئی ہے، ایران اب خطے میں وسیع عسکری آپریشنز یا بڑے حملوں کی پوزیشن میں نہیں رہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے دفاعی کارخانوں، میزائل سپورٹ سسٹمز اور عسکری لاجسٹک نیٹ ورک کو نشانہ بنانے سے تہران کی جنگی تیاریوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ کے مطابق امریکی حملوں کے بعد ایران کی جانب سے خطے میں اپنے اتحادی گروپوں کو اسلحہ اور عسکری معاونت کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔
دعویٰ کیا کہ حماس، حزب اللہ اور یمن کے حوثی باغیوں تک اسلحہ اور میزائل ٹیکنالوجی کی ترسیل میں واضح کمی آئی ہے، جس کے باعث ان گروپوں کی آپریشنل صلاحیت بھی متاثر ہو رہی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن کی حکمت عملی کا مقصد صرف ایران کی عسکری طاقت کو محدود کرنا نہیں بلکہ خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کو بھی کم کرنا ہے۔
دوسری جانب امریکی اخبار “نیویارک ٹائمز” نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کی خفیہ رپورٹس ایران کی عسکری صلاحیت سے متعلق مختلف تصویر پیش کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: شی جن پنگ نے بائیڈن دور کو امریکی زوال قرار دیا، ٹرمپ کا دعویٰ
رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کے ابتدائی تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اب بھی اپنی میزائل صلاحیتوں کا بڑا حصہ محفوظ رکھنے میں کامیاب رہا ہے اور اس کی تقریباً 70 فیصد میزائل طاقت بدستور فعال ہے۔
میڈیا کے مطابق یہ خفیہ رپورٹس ٹرمپ انتظامیہ اور امریکی فوجی قیادت کے ان دعوؤں سے مختلف ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران کی عسکری طاقت تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔
یاد رہے کہ امریکی اور ایرانی بیانات میں واضح تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور دونوں ممالک نفسیاتی اور سفارتی محاذ پر بھی ایک دوسرے کے خلاف بیانیہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی حملوں سے ایران کے بعض عسکری مراکز کو نقصان ضرور پہنچا ہوگا، تاہم ایران نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران اپنے میزائل پروگرام اور دفاعی تنصیبات کو مختلف مقامات پر تقسیم کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے اس کی مکمل عسکری صلاحیت ختم کرنا آسان نہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پورے مشرق وسطیٰ کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ خطے میں جاری تنازعات، تیل کی ترسیل اور عالمی معیشت پر اس کشیدگی کے اثرات کے باعث عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان بیانات کی جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جبکہ خطے میں کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے عالمی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔







