کئی امریکی ریاستوں نے نیشنل گارڈ کو طلب کر لیا۔ تاہم منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج اورریلیاں جس میں تقریباً سات ملین افراد حصہ لے رہے ہیں پرامن ہیں۔

جنوری میں وائٹ ہاؤس میں دوسری بار واپسی کے بعد سے ٹرمپ نے صدارتی اختیارات کے دائرہ کار کو بڑھا دیا ہے۔ انھوں نے ریاستوں کے گورنرز کی مخالفت کے باوجود وفاقی حکومت کے کچھ شعبوں کو ختم کرنے اور نیشنل گارڈ کے دستوں کو امریکی شہروں میں تعینات کرنے کے ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے۔

انھوں نے انتظامیہ کے اعلیٰ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے ممکنہ دشنموں کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بحران میں گھرے ملک کی تعمیر نو کے لیے ان کے اقدامات ضروری ہیں اور انھوں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ ایک آمر یا فاشسٹ جیسا برتاؤ کر رہے ہیں۔

ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ کے کچھ اقدامات غیر آئینی اور امریکی جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف امریکا بھر میں احتجاجی مظاہرے، معاملہ کیا ہے؟

اتوار کو نشر ہونے والے فاکس نیوز پر ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے ریلیوں میں ان پر عائد کیے گئے الزامات کا جواب دیا ہے۔

ٹرمپ نے اس انٹرویو میں کہا کہ ’ایک بادشاہ! یہ کوئی عمل نہیں ہے، آپ جانتے ہو، وہ مجھے بادشاہ کہہ رہے ہیں۔ میں بادشاہ نہیں ہوں۔‘

نیو یارک میں یہ نعرے بلند ہوئے کہ ’جمہوریت کچھ ایسی ہی دکھائی دیتی ہے‘۔ ان نعروں کے پس منظر میں قریب قریب ایک ڈھول کی آواز مسلسل بج رہی تھی۔

ہیلی کاپٹر اور ڈرون اوپر سے اڑتے ہوئے دیکھے جا سکتے تھے اور وہاں پولیس موجود تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ جہاز پر سوار ہیں اور جہاز سے گندگی مظاہرین پر گرائی جارہی ہے۔ ٹرمپ نے مظاہرین کے خلاف نفرت کا اظہار کیا ہے۔