قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے جاری ثالثی کی کوششیں انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل میں شامل فریقین مسلسل رابطے میں ہیں اور معاہدے تک پہنچنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

ماجد الانصاری کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم ثالث ممالک دونوں فریقوں کے درمیان رابطوں کو آسان بنانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قطر، عمان اور پاکستان سمیت ثالثی کرنے والے ممالک واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں، تجاویز کے تبادلے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں معاونت کر رہے ہیں۔

قطری ترجمان نے کہا کہ ان کا ملک خطے میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران آنے والے چند گھنٹوں یا دنوں میں کسی سمجھوتے تک پہنچ سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز کا معاملہ

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی اہم معاملہ ہے۔ قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ قطر چاہتا ہے کہ یہ اہم بحری راستہ دوبارہ مکمل طور پر کھولا جائے اور عالمی جہاز رانی معمول کے مطابق بحال ہو۔

ماجد الانصاری کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس یا ٹیکس وصول کیا جانا چاہیے، تاہم امریکا نے اس تجویز کو مسترد کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق فیصلے علاقائی ممالک کو مل کر کرنے چاہییں تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رہے اور عالمی توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔

امریکی وزیر خزانہ کا بھی معاہدے کا امکان ظاہر کرنا

اس سے قبل امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر معاہدہ ایک یا دو روز میں ممکن ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور فریقین آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر بات چیت کامیاب رہی تو آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا اور ایران کسی معاہدے تک پہنچتے ہیں تو اس کے اثرات خطے کی سیکیورٹی صورتحال، عالمی توانائی کی منڈی اور تیل کی ترسیل پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ تاہم اب تک دونوں ممالک کی جانب سے کسی حتمی معاہدے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔