تھائی لینڈ کی وزارتِ صحت نے اتوار کے روز انڈیا سے آنے والے مسافروں بالخصوص مغربی بنگال سے آنے والوں کی اسکریننگ کا آغاز کر دیا ہے، جب کہ نیپال نے بھی ممکنہ وائرس کی آمد روکنے کے لیے ملک گیر الرٹ نافذ کر دیا ہے۔

تھائی میڈیا کے مطابق نِپاہ وائرس کے خدشے کے پیشِ نظر بینکاک کے سوورنابھومی اور ڈان موئنگ ایئرپورٹس پر انڈیا سے آنے والے مسافروں کی خصوصی جانچ کی جا رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اسکریننگ کا عمل مغربی بنگال سے آنے والے مسافروں پر مرکوز ہے اور اس دوران مسافروں اور متعلقہ اداروں نے مکمل تعاون کیا ہے۔

تھائی وزارتِ صحت نے خطرے سے دوچار علاقوں سے آنے والے مسافروں کے لیے  ہیلتھ بی ویئر کارڈ  بھی جاری کیا ہے، جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ اگر کسی مسافر میں بخار، سر درد، پٹھوں میں درد، گلے کی خراش، کھانسی، سانس لینے میں دشواری، غنودگی، ذہنی الجھن یا دورے جیسی علامات ظاہر ہوں خصوصاً اگر وہ گزشتہ 21 دنوں میں چمگادڑوں، بیمار جانوروں یا کسی متاثرہ شخص سے رابطے میں رہا ہو تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کرے۔

انڈیا میں حکام نِپاہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق مغربی بنگال میں اب تک پانچ تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں، جن میں دو نرسیں، ایک ڈاکٹر اور ایک ہیلتھ اسٹاف کا رکن شامل ہے۔

ان کے علاوہ تین نئے کیسز رواں ہفتے رپورٹ ہوئے، جس کے بعد مجموعی تعداد پانچ ہو گئی۔ متاثرہ نرسیں کولکتہ کے قریب باراسات کے ایک نجی اسپتال میں کام کرتی تھیں۔

انڈین حکام کے مطابق دونوں نرسوں کی حالت تشویشناک ہے اور وہ آئی سی سی یو میں زیرِ علاج ہیں۔ ایک سینئر صحت افسر نے بتایا کہ دونوں مریض اس وقت کومے میں ہیں، جب کہ دیگر متاثرہ افراد میں سے کچھ کی حالت میں بہتری آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ناسا نے بلیک ہول کے کنارے کی اب تک کی سب سے صاف تصویر جاری کر دی

مغربی بنگال حکومت نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تقریباً 100 افراد کو ہوم قرنطینہ میں بھیج دیا ہے، جن میں سے 30 افراد کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔

اسی تناظر میں نیپال حکومت نے بھی نِپاہ وائرس کے ممکنہ داخلے کو روکنے کے لیے قومی سطح پر چوکسی بڑھا دی ہے۔

نیپال کی وزارتِ صحت کے ترجمان پراکاش بودھاٹوکھی کے مطابق تریبھون انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت بھارت سے ملحقہ اہم سرحدی گزرگاہوں پر مسافروں کی طبی اسکریننگ شروع کر دی گئی ہے۔ خاص طور پر کوشی صوبے میں سرحدی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے، جب کہ دیگر بارڈر کراسنگز پر بھی صحت جانچ کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق نِپاہ وائرس کو اس کی وبائی صلاحیت کے باعث ترجیحی خطرناک وائرس قرار دیا گیا ہے۔ اس وائرس کے لیے تاحال کوئی ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں۔

نِپاہ وائرس انسانوں میں بغیر علامات کے انفیکشن سے لے کر شدید سانس کی بیماری اور مہلک دماغی سوزش (Encephalitis) تک مختلف علامات پیدا کر سکتا ہے۔

لازمی پڑھیں: قومی خاتون کرکٹر عمیمہ سہیل شادی کے بندھن میں بندھ گئیں

ماہرین کے مطابق نِپاہ وائرس ہینی پا وائرس جینس سے تعلق رکھتا ہے اور بنیادی طور پر پھل کھانے والی چمگادڑوں (Pteropus species) میں پایا جاتا ہے۔ یہ وائرس آلودہ خوراک، جانوروں یا براہِ راست انسان سے انسان میں منتقل ہو سکتا ہے۔

ماضی میں ہونے والی وباؤں کے دوران اس وائرس کی اموات کی شرح 40 سے 75 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے، جو اسے ایک سنگین عالمی صحت خطرہ بناتی ہے۔

انڈیا کے طبی ماہرین نے نِپاہ وائرس کی زونوٹک نوعیت پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وائرس خاص طور پر دیہی اور جنگلات سے ملحقہ علاقوں میں زیادہ پھیلنے کا خدشہ رکھتا ہے، جہاں زرعی سرگرمیوں کے باعث انسانوں اور چمگادڑوں کا رابطہ بڑھ جاتا ہے۔

نِپاہ وائرس کی ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، پٹھوں میں درد، قے اور گلے کی خراش شامل ہیں، جب کہ بعد ازاں مریض کو چکر آنا، غنودگی، ذہنی کیفیت میں تبدیلی، دورے اور شدید صورت میں کومہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس وائرس کی انکیوبیشن مدت عام طور پر 4 سے 14 دن ہوتی ہے، تاہم بعض کیسز میں یہ 45 دن تک بھی ہو سکتی ہے۔

چونکہ نِپاہ وائرس کا کوئی مخصوص علاج یا ویکسین موجود نہیں، اس لیے ماہرین کے مطابق اس سے بچاؤ کا واحد طریقہ آگاہی، بروقت تشخیص، سخت آئسولیشن، اور انفیکشن کنٹرول کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد ہے۔

مزید پڑھیں: نئی دہلی میں شیخ حسینہ کو خطاب کی اجازت مل گئی، بنگلادیش میں شدید احتجاج

مغربی بنگال حکومت نے بھی مشتبہ اور تصدیق شدہ مریضوں کے لیے خصوصی گائیڈ لائنز جاری کرتے ہوئے فوری آئسولیشن اور حفاظتی اقدامات پر زور دیا ہے۔

صحت ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نِپاہ وائرس کی بروقت تشخیص اور احتیاطی تدابیر نہ اپنائی گئیں تو یہ وائرس نہ صرف انڈیا بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑے صحت بحران کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔