انڈین ایئر فورس کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق دو نشستوں والا یہ سخوئی لڑاکا طیارہ جمعرات کو رات گئے ایک ایئر بیس سے پرواز کرنے کے بعد آسام کے ضلع کاربی آنگلونگ میں گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے کی وجوہات کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دونوں پائلٹوں کی ہلاکت پر ’’گہرے رنج اور افسوس‘‘ کا اظہار کیا ہے۔
روسی ساختہ Su-30MKI جنگی طیارہ بھارت میں سرکاری کمپنی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کے لائسنس کے تحت تیار کیا جاتا ہے اور بھارتی فضائیہ کے پاس ایسے 260 سے زائد لڑاکا طیارے موجود ہیں۔
بھارت میں اس سے پہلے بھی اس طرز کے جنگی طیاروں کو جون 2024 اور جنوری 2023 میں حادثات پیش آ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انڈین لڑاکا طیارہ سخوئی 30 لاپتہ
یاد رہے کہ انڈین ائیر فورس کا ایک سخوئی 30 لڑاکا طیارہ جمعرات کی شام جورہاٹ سے اڑان بھرنے کے فوراً بعد آسام کے کاربی انگلونگ ضلع کے پہاڑی علاقے میں گر کر لاپتہ ہو گیا، جس کے بعد قریبی دیہات میں خوف و ہراس پھیل گیا اور حکام کی جانب سے سرچ آپریشن شروع کیا گیا تھا۔
انڈین میڈیا کے مطابق حادثہ ضلع کے چوکی ہولا کے تحت نیلیپ بلاک کے قریب ایک دور دراز پہاڑی علاقے میں پیش آیا۔ مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ شام سات بجے کے قریب ایک زور دار دھماکے جیسی آواز سنی گئی جو آس پاس کی پہاڑیوں میں گونجی اور بستیوں میں خوف پھیل گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد پہاڑیوں کی سمت سے دھواں اٹھتا ہوا بھی دیکھا گیا۔
انڈین ائیر فورس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انڈین فضائیہ کا سخوئی ایس یو ایم 30 لڑاکا طیارہ جورہاٹ، آسام سے اڑان بھرنے کے بعد لاپتہ ہو گیا ہے۔ طیارے کا آخری رابطہ جمعرات کو شام 7:42 بجے ہوا تھا۔
انڈین میڈیا کے مطابق حادثے کی مشتبہ جگہ جنگل اور پہاڑی علاقوں میں واقع ہے، جو انسانی رہائش سے دور ہے، اس لیے مقامی باشندوں کے لیے فوری رسائی مشکل ہے۔







