بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 59 سالہ سونم وانگچک نئی دہلی کے جنتر منتر پر جاری احتجاج میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھجیت ڈپکے سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔ یہ احتجاج مئی میں ہونے والے امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے خلاف جاری ہے، جس سے لاکھوں طلبہ متاثر ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق احتجاجی مقام پر سفید گدے پر لیٹے سونم وانگچک اس قدر کمزور ہو چکے ہیں کہ وہ میڈیا سے بات کرنے کے قابل بھی نہیں رہے۔ اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ چھ ہفتوں تک یا اپنی جان جانے تک بھوک ہڑتال جاری رکھ سکتے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ سونم وانگچک کا وزن اب تک 8.5 کلوگرام کم ہو چکا ہے اور ان کی صحت مسلسل خراب ہو رہی ہے۔

پارٹی کے بانی ابھجیت ڈپکے کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی بار سونم وانگچک کو بھوک ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔ سونم وانگچک نے کارکنوں کو 20 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی تیاری جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت چاہتی ہے کہ بھوک ہڑتال کرنے والے افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں، تاہم حکومت کی جانب سے اس بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دریں اثنا احتجاج میں شریک ایک اور نوجوان، جو بھوک ہڑتال پر تھا، پیر کے روز بے ہوش ہونے کے بعد اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

دوسری جانب متعدد سینئر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی سونم وانگچک سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ اتر پردیش کے سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے کہا کہ سونم وانگچک کی زندگی پوری دنیا کے لیے قیمتی ہے کیونکہ وہ انسانیت، ماحولیات اور جمہوریت کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا، صدر ٹرمپ

واضح رہے کہ 30 سالہ ابھجیت ڈپکے کی قائم کردہ کاکروچ جنتا پارٹی نے سوشل میڈیا پر غیرمعمولی مقبولیت حاصل کی ہے اور مئی میں آغاز کے چند ہی دنوں میں اس کے 2 کروڑ 20 لاکھ سے زائد فالوورز بن گئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق انڈیا میں نوجوانوں میں بے روزگاری اور امتحانی نظام میں بدعنوانی کے الزامات پر بڑھتی ہوئی بے چینی کے باعث یہ احتجاج حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

گزشتہ ماہ تقریباً 23 لاکھ امیدواروں کا میڈیکل کالج داخلہ امتحان پرچہ لیک ہونے کے بعد منسوخ کر کے دوبارہ منعقد کرنا پڑا تھا، جس کے بعد حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔