اسرائیلی فوج کے مطابق اتوار کی صبح جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد کیے گئے حملے حماس کے ’دہشت گردی کے اہداف‘ کے خلاف ہیں۔ فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں غزہ میں حماس کے عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب حماس نے اسرائیل کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کے لیے پرعزم ہے، تاہم اسرائیلی افواج خود معاہدے کی خلاف ورزیاں کر رہی ہیں۔

ایک سکیورٹی اہلکار نے عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا کہ سیاسی قیادت کی ہدایت کے مطابق حماس کی جانب سے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کے بعد غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کو اگلے نوٹس تک روک دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 10 اکتوبر سے جنگ بندی معاہدے کے تحت روزانہ سینکڑوں ٹرکوں کے ذریعے غزہ میں امداد پہنچائی جا رہی تھی۔ اقوامِ متحدہ نے اس سے قبل اگست میں خبردار کیا تھا کہ امداد میں تعطل سے علاقے میں قحط کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔


ادھر اسرائیلی میڈیا کے مطابق غزہ کے وسطی علاقے الزویدہ میں فضائی حملے کے نتیجے میں حماس کے القسام بریگیڈ کے چھ ارکان ہلاک ہو گئے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں جبالیہ بٹالین کی ایلیٹ یونٹ کے کمانڈر یحییٰ المبوح بھی شامل ہیں، تاہم بی بی سی اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

مزید پڑھیں: حماس نے مزید دو یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کر دیں، ’رفع کراسنگ کی بندش تاخیر کا سبب بن رہی ہے‘

رپورٹس کے مطابق حملے میں قصبے کے بیچ فرنٹ پر واقع ایک چھوٹے کیفے کو نشانہ بنایا گیا۔ الزویدہ غزہ کے ساحلی علاقے میں دیرالبلاح اور خان یونس کے درمیان واقع ہے۔

مزید یہ کہ جنگ بندی کے دوران ایک سینئر کمانڈر المبوح کی ہلاکت حماس کی ایلیٹ فورسز کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دی جا رہی ہے۔