غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ عربی کو دیے گئے انٹرویو میں خالد مشعل نے جنگ بندی کے دوسرے مرحلے، غزہ کی ممکنہ حکمرانی اور عالمی منصوبوں پر کھل کر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھتا ہے تو معاہدے کا دوسرا مرحلہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔

فلسطینی حکام کے مطابق 10 اکتوبر سے اب تک کم از کم 738 بار وقفے کی خلاف ورزی کی جا چکی ہے۔ خالد مشعل نے کہا کہ غزہ پر غیر فلسطینی حکمرانی کسی صورت قبول نہیں، ایسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ بورڈ آف پیس پر بھی تحفظات موجود ہیں۔

سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کو اس منصوبے سے باہر کیے جانے کو حماس کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ دوحہ فورم میں قطر، ترکی اور مصر نے خبردار کیا کہ جنگ بندی کا عمل سست پڑ رہا ہے اور تمام فریقین کو کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔

خیال رہے کہ امریکی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی مجموعی طور پر برقرار ہے تاہم اسرائیلی حملوں اور چند واقعات میں حماس کی طرف سے خلاف ورزیوں کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔ اب تک اسرائیلی حملوں میں 377 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

معاہدے کے تحت تقریباً تمام اسرائیلی یرغمالی واپس کیے جا چکے ہیں، جب کہ سیکڑوں فلسطینی قیدی بھی غزہ منتقل ہوئے ہیں۔ متعدد فلسطینی قیدیوں کی لاشوں پر تشدد اور مسخ شدگی کے نشانات نے مزید سوالات کھڑے کر دیے، جنہیں کئی خاندان پہچاننے میں بھی ناکام رہے۔

حماس نے الزام لگایا کہ اسرائیل نے معاہدے کے پہلے مرحلے پر مکمل عمل نہیں کیا، خاص طور پر رفح کراسنگ نہ کھولنے، امداد میں کمی اور روزانہ حملوں کے ذریعے۔ اس کے برعکس اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ پہلا مرحلہ تقریباً مکمل ہے اور وہ جلد ہی امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات میں دوسرے مرحلے کے لیے حکمت عملی طے کریں گے۔

امریکی حکام کے مطابق دوسرے مرحلے میں جنگ کا رسمی خاتمہ، غزہ سے مکمل انخلا اور بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیوں پر بات چیت جاری ہے، جس میں کافی پیش رفت ہو رہی ہے۔ خالد مشعل نے زور دیا کہ تباہ شدہ غزہ کی بحالی کے لیے فوری طور پر بڑے پیمانے پر امداد ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلغاریہ کی عدالت نے بیروت دھماکے کے ملزم ایگور گریچوشکن کی لبنان حوالگی کی درخواست مسترد کر دی

دوسری جانب ترکی نے عندیہ دیا ہے کہ وہ غزہ میں تعینات ہونے والی مجوزہ بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس میں شامل ہو سکتا ہے، جو حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل کی نگرانی کرے گی۔ تاہم ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ یہ عمل پہلے مرحلے میں ممکن نہیں۔

اسرائیل نے ترک فورس کی غزہ میں موجودگی کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ دوسرے مرحلے کے آغاز کے ساتھ ہی حماس کا غیر مسلح ہونا پہلی ترجیح ہوگی۔

ادھر مصر نے کہا ہے کہ غزہ میں فورس کی فوری تعیناتی ضروری ہے کیونکہ ایک جانب اسرائیل روزانہ جنگ بندی توڑتا ہے، دوسری جانب الزام حماس پر لگا دیتا ہے، اس لیے آزاد مانیٹرنگ فورس کے بغیر پیش رفت ممکن نہیں۔