ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران کے ایک مرکزی اور گنجان آباد علاقے میں ہونے والے حملے میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس کے قریب واقع ایک یہودی عبادت گاہ بھی شدید نقصان کے باعث مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ علاقے کی تنگ گلیوں اور قریبی عمارتوں کی موجودگی کے باعث دھماکے کے اثرات دور تک محسوس کیے گئے اور متعدد عمارتوں کے اندرونی و بیرونی حصے متاثر ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق حملے کے فوری بعد ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور ملبے تلے دبے ممکنہ افراد کی تلاش شروع کر دی گئی، اب تک جانی نقصان کے حوالے سے کوئی حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
سرکاری نشریاتی اداروں کی جانب سے جاری ویڈیوز میں تباہی کے مناظر، تباہ شدہ عمارتیں اور امدادی کارروائیوں میں مصروف اہلکار دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ شہریوں میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام نے ایران کے خلاف ایک نئی فضائی مہم کا عندیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کارروائیوں میں اہم عسکری اور انفراسٹرکچر تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں ایران کی جانب سے ممکنہ خطرات کے پیش نظر کی جا رہی ہیں۔
اسرائیل نے اپنے دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور شہریوں کو موبائل فونز کے ذریعے ہنگامی پیغامات جاری کیے گئے ہیں جن میں انہیں فوری طور پر محفوظ مقامات یا زیر زمین پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ادھر ایران کے مختلف علاقوں سے بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران میں کئی مقامات پر زور دار دھماکے سنے گئے، جبکہ مہر آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب بھی مشتبہ سرگرمیوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اسی طرح خلیج کے قریب واقع شہر کھارگ میں بھی دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاعات ہیں، جس کے بعد سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: منگل کی ڈیڈ لائن حتمی، موقع ملا تو ایران کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہیں گے: امریکا
واضح رہے کہ ایران میں یہودی برادری صدیوں سے آباد ہے اور آج بھی ہزاروں کی تعداد میں یہودی شہری وہاں رہائش پذیر ہیں، جنہیں آئینی طور پر مذہبی آزادی حاصل ہے اور پارلیمنٹ میں ان کی نمائندگی بھی موجود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ صورتحال خطے میں ایک بڑے تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کی اپیلیں بھی متوقع ہیں۔







