غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق برطانیہ میں قائم فلاحی ادارے میڈیکل ایڈ فار فلسطینی (ایم اے پی) نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ جنوبی لبنان اور دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات کے لیے اسرائیل کی جانب سے جاری کردہ جبری انخلاء کے احکامات شہری آبادی میں شدید خوف و ہراس پیدا کر رہے ہیں۔

ادارے کے چیف ایگزیکٹو اسٹیو کٹس کے مطابق لبنان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ دراصل غزہ میں استعمال کی جانے والی اسرائیلی فوجی حکمت عملی کی واضح توسیع ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حکمت عملی میں اجتماعی سزا، جبری نقل مکانی اور شہری آبادی کو خوفزدہ کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں، جن کا نشانہ پہلے ہی صدموں کا شکار فلسطینی کمیونٹیز بھی بن رہی ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز جنوبی لبنان کے تمام علاقوں کے لیے انخلاء کا حکم جاری کیا تھا، جس کے بعد ہزاروں افراد نے حملوں کے خوف سے اپنے گھر بار چھوڑ دیے۔

ایک دن بعد بیروت کے جنوبی مضافات کے لیے بھی اسی نوعیت کا حکم جاری کیا گیا، جس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں فضائی اور زمینی کارروائیاں مزید تیز کر دیں۔

لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان شدید جھڑپیں پیر کے روز دوبارہ شروع ہوئیں، جب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں قتل کے بعد حزب اللہ نے اسرائیل کی جانب راکٹ داغے۔

لبنانی وزارت صحت کے مطابق پیر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 217 افراد جاں بحق جب کہ 798 زخمی ہو چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اسرائیلی انخلاء کے احکامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لبنان میں پہلے ہی پناہ گاہیں بھر چکی ہیں اور بے گھر ہونے والے بہت سے خاندانوں کے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ موجود نہیں۔

مزید پڑھیں: کچھ ممالک نے جنگ ختم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں شروع کر دی ہیں، ایرانی صدر

بیروت سے الجزیرہ کے نمائندے برنارڈ اسمتھ کے مطابق بہت سے لوگ سڑکوں پر، بیروت کے ساحلی علاقے کارنیش پر یا ایسے اسکولوں میں سو رہے ہیں جنہیں عارضی پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد یہ جاننا چاہتے ہیں کہ انہیں کب تک اپنے گھروں سے دور رہنا پڑے گا، مگر حکام اس حوالے سے کوئی واضح جواب دینے سے قاصر ہیں۔

اسرائیلی فوج غزہ میں جاری جنگ کے دوران بھی اسی طرح کے انخلاء کے احکامات جاری کرتی رہی ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی متعدد بار نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

گزشتہ سال ستمبر میں اسرائیل نے پورے غزہ شہر کے لیے انخلاء کا حکم دیا تھا جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

اس وقت ہیومن رائٹس واچ نے اس حکم کو ظالمانہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے فلسطینیوں کے لیے پہلے سے موجود تباہ کن حالات مزید سنگین ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی قیادت نے حالیہ دنوں میں لبنان میں جاری کارروائیوں کا موازنہ بھی غزہ کی جنگ سے کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کی فضائی اور بحری قوت تباہ کر دی، اس کو روکنا ہماری اولین ترجیح ہے: ٹرمپ

جمعرات کو بیروت کے جنوبی مضافات کے لیے انخلاء کے حکم کے بعد اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر خزانہ بیزلیل اسموٹریچ نے کہا کہ اسرائیل داحیہ کے علاقے کو  خان یونس جیسا  بنا دے گا۔

غزہ کے جنوبی حصے میں واقع شہر خان یونس اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جیسا کہ غزہ کی پٹی کے بیشتر علاقے ہو چکے ہیں۔