ایرانی خبر رساں ادارے اسلامک ریپبلک نیوز ایجنسی کے مطابق تہران میں پاکستان کے آرمی چیف سید عاصم منیر سے ملاقات کے دوران ایرانی صدر نے پاکستان اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی  مؤثر ثالثی  کو سراہا، جس نے جنگ بندی ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے اسلام آباد میں ایرانی وفد کی میزبانی پر پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ ایران خطے میں عدم استحکام نہیں چاہتا بلکہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

ٹیلی وژن خطاب میں صدر پزشکیان نے کہا کہ اسرائیل کو  مضبوط سفارتکاری  کے باعث جنگ بندی پر مجبور ہونا پڑا اور اسے لبنان میں حزب اللہ یا دیگر محاذوں پر حملے کا کوئی حق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی خطے میں بدامنی یا دہشت گردی چاہتا ہے۔

ایرانی صدر نے کہا ہے کہ تہران امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے، تاہم اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع قانونی دائرے میں رہتے ہوئے  وقار کے ساتھ  جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا، ٹرمپ

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہے گا اور یہ بات دیگر فریقین کو سمجھنا ہوگی۔

مسعود پزشکیان نے امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ فوجی کمانڈرز، سیاستدانوں، سائنسدانوں اور طلبہ کے قتل کے ذریعے ایران اور خطے کو عدم استحکام اور جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔