معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن کو دیے گئے انٹرویو میں ہکابی نے اسرائیل کی سرحدوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بعض مذہبی حوالوں کے مطابق یہ حدود وسیع تر علاقے تک پھیلی ہوئی تصور کی جاتی ہیں۔ گفتگو کے دوران بائبلی حوالوں کا ذکر بھی کیا گیا، جس میں دریائے فرات سے دریائے نیل تک کے خطے کا حوالہ شامل تھا۔

جب کارلسن نے سوال کیا کہ کیا وہ واقعی اسرائیل کے پورے خطے پر پھیلاؤ کی حمایت کرتے ہیں تو ہکابی نے جواب دیا کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی مطالبے پر زور نہیں دے رہا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے بیان کو کسی حد تک مبالغہ آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بات کو سیاق و سباق میں دیکھا جانا چاہیے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی جنگی صورتحال میں اسرائیل کو برتری حاصل ہو تو وہ ایک الگ بحث ہو سکتی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ آیا وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی سفیر کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں۔

بین الاقوامی قانون کے مطابق دوسری جنگِ عظیم کے بعد طاقت کے ذریعے کسی بھی علاقے کے حصول کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ 2024 میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ بین الاقوامی قانون کے منافی ہے اور اسے ختم کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 1981 میں گولان کی پہاڑیوں کو اپنے ساتھ ضم کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے عالمی برادری کی اکثریت غیر قانونی قرار دیتی ہے، تاہم امریکا اس علاقے پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کر چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں لبنان کی سرحدی پٹی میں بھی اسرائیلی فوجی موجودگی کے حوالے سے تنازعات سامنے آتے رہے ہیں۔

کچھ اسرائیلی سیاسی رہنما، جن میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بھی شامل ہیں، ماضی میں اسرائیل کے تاریخی و مذہبی دعوؤں کا حوالہ دیتے رہے ہیں، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:  2003 کے بعد سب سے بڑی جنگ ، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھنے لگی، جوہری مذاکرات پس منظر میں چلے گئے

انٹرویو میں ہکابی نے کہا کہ اسرائیل کے وجود کا حق بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے، تاہم انہوں نے بین الاقوامی عدالتی اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات یہ ادارے منصفانہ اطلاق سے ہٹ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ روبیو بین الاقوامی فوجداری عدالت اور دیگر فورمز کے حوالے سے سخت مؤقف رکھتے ہیں۔

سفارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کی کوششیں جاری ہیں۔