غزہ کے طبی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے بچے ایک ہی خاندان کے تھے اور وہ شمالی غزہ کے کمال عدوان اسپتال کے نزدیک لکڑی اکٹھی کرنے کے دوران ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں مارے گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق عارضی خیموں میں رہنے والے فلسطینی کمزور ہوا اور بارش سے بالکل محفوظ نہیں، کیونکہ بیشتر خیمے پتلے کپڑے اور پلاسٹک شیٹس کے بنے ہیں۔
اسرائیل نے حماس کے ساتھ اکتوبر میں طے شدہ جنگ بندی اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ میں ضروری امداد جیسے خیمے، موبائل ہاؤسز یا خیموں کی مرمت کے لیے مواد کی رسائی محدود یا روک رکھی ہے۔
غزہ کے فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 11 اکتوبر سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 481 فلسطینی ہلاک اور 1,206 زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 71,654 اور زخمی ہونے والوں کی تعداد 171,391 تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب غزہ میں سردی کے باعث بچوں کی ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، تین ماہ کے بچے علی ابو زور کی شدید سردی کے باعث علی الاقصیٰ شہداء اسپتال میں ہلاکت سے موسم سرما کے آغاز سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔
اسی دوران امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جارڈ کشنر اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے لیے موجود ہیں، جس میں بنیادی طور پر غزہ کی صورتحال پر بات ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں؛ نیٹو سے متعلق متنازع بیان، امریکا نے برطانوی وزیراعظم کے معافی کے مطالبے کو مسترد کر دیا
امریکا نے جمعرات کو “نیو غزہ” منصوبے کا اعلان کیا، جس کے تحت غزہ کو نئے سرے سے تعمیر کیا جائے گا اور اس میں رہائشی ٹاورز، ڈیٹا سینٹرز اور سی فیس ریزورٹس شامل ہوں گے۔ یہ منصوبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ جنگ بندی کو مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، جو بار بار خلاف ورزیوں کے باعث متاثر ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ غزہ میں درجہ حرارت رات کے وقت 10 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے، جس کی وجہ سے فلسطینی ایندھن تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔







