اسرائیلی فوج کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج کی 91ویں بریگیڈ نے جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں میں زمینی آپریشن شروع کر دیا ہے، اس کارروائی کے دوران سرحد کے قریب قائم کیے گئے ’’فارورڈ ڈیفنس زون‘‘ کو مزید وسعت دینے کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں شروع کیے گئے اس فوجی آپریشن کا مقصد حزب اللہ کے مبینہ انفرااسٹرکچر کو تباہ کرنا اور اسرائیلی سرحد کے قریب موجود خطرات کو کم کرنا ہے، اس کارروائی کے ذریعے سرحدی علاقوں میں رہنے والے اسرائیلی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

 مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج زمینی کارروائی کے ساتھ ساتھ فضائی نگرانی بھی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ سرحدی علاقوں میں ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی کی جا سکے،یہ کارروائی مخصوص عسکری اہداف کے خلاف کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب لبنان کے حکام نے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان میں اضافے کی اطلاع دی ہے۔ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 28 فروری سے اب تک اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 850 افراد ہلاک جبکہ 2 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں کے باعث جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں شہری آبادی شدید متاثر ہوئی ہے اور متعدد افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ اسپتالوں میں زخمیوں کے علاج کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ ملی تو نیٹو کا مستقبل برا ہوگا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ادھر خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے،اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ پورے مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

واضع رہے  کہ جنوبی لبنان کا سرحدی علاقہ گزشتہ کئی برسوں سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کا مرکز رہا ہے اور وقتاً فوقتاً دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث صورتحال کشیدہ رہتی ہے۔