اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جو ممالک ایران جنگ کے باعث جیٹ فیول حاصل نہیں کر پا رہے، وہ یا تو امریکا سے خریدیں یا ہمت کریں اور خود جا کر وسائل حاصل کریں۔
انہوں نے بالخصوص برطانیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب امریکا کو ضرورت تھی تو اتحادی ممالک نے ساتھ نہیں دیا، اس لیے اب امریکا بھی ہر جگہ مدد کے لیے موجود نہیں ہوگا، دنیا کو اپنے دفاع اور مفادات کے لیے خود کھڑا ہونا سیکھنا ہوگا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران بنیادی طور پر تباہ ہو چکا ہے اور جنگ کا مشکل مرحلہ گزر چکا ہے، لہٰذا دیگر ممالک خود جا کر اپنے توانائی وسائل حاصل کریں۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی واضح کیا ہے کہ امریکا اس تنازع کو اپنے اور ٹرمپ کے طے کردہ شرائط پر ہی ختم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم عالمی گزرگاہ کے تحفظ کے لیے دیگر ممالک کو بھی آگے آنا ہوگا۔
ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ دنیا کے کئی ممالک کو اس اہم بحری راستے کی سیکیورٹی کے لیے تیار رہنا چاہیے، جب کہ انہوں نے یہ شکوہ بھی کیا کہ نیٹو ممالک نے نہ صرف امریکا کا ساتھ نہیں دیا بلکہ اس کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات پر تنقید بھی کی۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ معاہدے کے لیے تیار، اتحادی ممالک آبنائے ہرمز کے تحفظ میں فعال کردار ادا کریں: امریکی وزیرِ دفاع
خیال رہے کہ امریکی قیادت کے ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اب اتحادیوں پر زیادہ ذمہ داریاں ڈالنے اور عالمی تنازعات میں اپنے کردار کو محدود کرنے کی پالیسی کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے خطے اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔







