ایرانی وزارتِ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے 8 اپریل کے دوران ہونے والے حملوں میں 278 طلبا جاں بحق ہوئے، جن میں پرائمری اور سیکنڈری سطح کے طلبا شامل ہیں، جبکہ 67 اساتذہ بھی ان حملوں میں مارے گئے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 196 طلبا اور 26 اساتذہ زخمی بھی ہوئے، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 942 تعلیمی ادارے متاثر ہوئے، جن میں سے 18 اسکول مکمل طور پر تباہ ہو گئے، جبکہ دیگر کو جزوی نقصان پہنچا۔ اس تباہی کے باعث ہزاروں طلبا کی تعلیم شدید متاثر ہوئی ہے اور کئی علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل ہو چکی ہیں۔
What is the possible military justification for this carnage? Iran’s schools and hospitals are in ruins from US-Israeli strikes. The NY Times has verified damage to 22 schools and 17 health care facilities, a fraction of the devastation in the war so far. https://t.co/FdZOeE407d
— Kenneth Roth (@KenRoth) April 10, 2026
حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حملوں کا دائرہ صرف تعلیمی اداروں تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر شہری انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر 125,640 سویلین یونٹس متاثر ہوئے، جن میں ایک لاکھ سے زائد رہائشی مکانات، بیس ہزار سے زائد تجارتی مراکز اور سینکڑوں طبی سہولیات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے کو بھی شدید دھچکا لگا ہے، جہاں 339 طبی مراکز کو نقصان پہنچا، جس کے باعث زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران ڈیل کے لیے بیتاب ہے، آج ہی متعلقہ افراد کی کال موصول ہوئی، ڈونلڈ ٹرمپ
ایرانی حکام کے مطابق اس جاری تنازع میں اب تک 3,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو کر محفوظ مقامات کی تلاش میں ہیں۔ حکام نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لے اور شہری آبادی کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات کرے۔
دوسری جانب عالمی سطح پر ان حملوں کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے، جہاں مختلف ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شہری علاقوں اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنائے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کی تباہی کسی بھی معاشرے کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ایران میں تعلیمی نظام کو بحال ہونے میں طویل وقت لگ سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں ایران کو نہ صرف انسانی بحران کا سامنا ہے بلکہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جس کے لیے وسیع پیمانے پر وسائل اور بین الاقوامی تعاون درکار ہوگا۔







