عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مختلف تجاویز پر سنجیدگی سے بات ہوئی اور کچھ رہنما اصولوں پر عمومی اتفاق ہوا ہے، جس کے بعد دونوں فریقین ممکنہ معاہدے کے متن پر بات کریں گے۔ اگلے مرحلے کے لیے، دستاویزات کے تبادلے کے بعد تیسری راؤنڈ کی تاریخ کا تعین کیا جائے گا۔

جنیوا میں یہ مذاکرات عمان کے ثالثی کردار میں ہوئے، جس میں امریکی نمائندے اسٹیو وٹیوکوف اور جیئرڈ کشنر نے شرکت کی۔ ایران کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ میزائل پروگرام اور دیگر غیر جوہری مسائل اس بات چیت کا حصہ نہیں بنیں گے اور ایران صرف اپنے جوہری پروگرام میں محدود پابندیوں کے بدلے پابندیوں میں نرمی پر تیار ہے۔

مذاکرات کے دوران ایران نے  حفاظتی اقدامات  کے طور پر چند گھنٹوں کے لیے آبنائے ہرمز میں فوجی مشقیں کیں، جس نے عالمی تیل کی ترسیل پر عارضی اثر ڈالا۔ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنائی نے خبردار کیا کہ امریکا ایران کی حکومت کو زبردستی نہیں ہٹا سکتا۔

گزشتہ سال امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں نے ایران کے جوہری مقامات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد ایران نے یورینیم افزودگی کی سرگرمیوں میں عارضی تعطل کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات میں اپنی بالواسطہ شمولیت کا عندیہ دیا اور کہا کہ تہران سمجھتا ہے کہ معاہدہ نا کرنے کے نتائج سے بچنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز بند کرنے کے لیے تیار، فیصلہ اعلیٰ قیادت کرے گی: پاسدارانِ انقلاب

آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے خدشات اور ایران کی جوہری صلاحیتوں کے حوالے سے کشیدگی عالمی تیل کی مارکیٹ اور خطے کی سکیورٹی کے لیے حساس مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے، جب کہ امریکا اور اسرائیل کا خیال ہے کہ ایران ہتھیار تیار کرنے کی کوشش میں ہے۔

یہ مذاکرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اصولی اتفاق پیدا ہو گیا ہے، لیکن حتمی معاہدہ ابھی دور ہے اور دونوں ممالک کی سنجیدگی اور پابندیوں میں نرمی کی پیشکش کامیابی کی کلید ہے۔