اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری طویل بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت گزشتہ کئی دہائیوں سے مذاکرات کے نام پر دنیا کو الجھاتی آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ “ایران تاخیر، تاخیر اور صرف تاخیر کی پالیسی پر عمل کررہا ہے، یہ وہی پرانا کھیل ہے جو تہران گزشتہ 47 برس سے کھیلتا آرہا ہے۔”

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران نے سب سے زیادہ فائدہ اُس وقت اٹھایا جب بارک اوباما امریکا کے صدر تھے۔ ٹرمپ کے مطابق اوباما انتظامیہ نے ایران کے ساتھ انتہائی نرم رویہ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں تہران کو اپنی معاشی اور سیاسی طاقت دوبارہ بحال کرنے کا موقع ملا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ اوباما دور میں ایران کو اربوں ڈالر فراہم کیے گئے، جن میں بڑی مقدار میں نقد رقم بھی شامل تھی جو طیاروں کے ذریعے تہران بھیجی گئی۔

انہوں نے کہا کہ “ایران نے اتنی بڑی رقم شاید پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی، یہی مالی وسائل بعد میں خطے میں اس کے اثر و رسوخ بڑھانے کا سبب بنے۔”

ٹرمپ نے سابق امریکی صدر بارک اوباما کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں “کمزور قیادت” قرار دیا، جبکہ موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن پر بھی شدید تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ “اوباما امریکا کے لیے ایک ناکام لیڈر تھے لیکن سلیپی جو بائیڈن اس سے بھی بدتر ثابت ہوئے ہیں۔”

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران نے برسوں تک امریکا کو مذاکرات اور وعدوں میں الجھائے رکھا، جبکہ دوسری جانب اپنے علاقائی اثر و رسوخ اور عسکری صلاحیتوں میں اضافہ جاری رکھا۔

ٹرمپ نے ایران پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام بھی لگایا اور دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت نے حالیہ برسوں میں ہزاروں مظاہرین کو کچلنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔

اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔

مزید پڑھیں: پاکستانی ثالثی کے ذریعے موصول ہونے والی ایرانی تازہ تجاویز ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘، صدر ٹرمپ

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ “ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، ہم ان کا افزودہ یورینیم حاصل کریں گے، اور اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ کارروائی بھی کی جاسکتی ہے۔”

اگرچہ ٹرمپ نے کسی ممکنہ فوجی کارروائی کی تفصیلات بیان نہیں کیں، تاہم ان کے بیان کو ایران کے لیے ایک سخت وارننگ قرار دیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے اور ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش بڑھتی جارہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے سخت بیانات نہ صرف امریکی داخلی سیاست بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران اور مغربی ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان مزید گہرا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔