اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امید ہے ایران جلد مذاکرات کی میز پر آئے اور ایک منصفانہ اور قابلِ قبول معاہدہ کرے، کوئی جوہری ہتھیار نہیں۔ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافے کے تناظر میں ٹرمپ نے یاد دلایا کہ ایران کو ان کی گزشتہ وارننگ کے بعد جون میں فوجی حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگلا حملہ کہیں زیادہ شدید ہوگا، ایسا دوبارہ نہ ہونے دیں۔ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن کی قیادت میں ایک بحری بیڑا ایران کے قریب پہنچ رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ بحری بیڑا پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں داخل ہو چکا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا نے کوئی فوجی کارروائی کی تو ایران امریکا، اسرائیل اور ان کے حامیوں کو نشانہ بنائے گا۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی خبردار کیا کہ ایران کی مسلح افواج انگلیاں ٹریگر پر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی جارحیت کا فوری اور بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران ہمیشہ ایک منصفانہ، برابری پر مبنی اور دباؤ سے پاک جوہری معاہدے کا حامی رہا ہے، جو پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے حق کی ضمانت دے اور جوہری ہتھیاروں سے مکمل انکار پر مبنی ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  حملہ ہوسکتا ہے ، امریکا نے پاکستان میں موجود امریکی شہریوں کو الرٹ کردیا

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ان کا امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اور نہ ہی ایران نے مذاکرات کی درخواست کی ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ ہفتوں میں ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ اگرچہ مظاہرے وقتی طور پر کم ہو گئے ہیں، تاہم امریکا کا دعویٰ ہے کہ ایران کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کانگریس کو بتایا کہ ایرانی حکومت پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو چکی ہے اور امکان ہے کہ سڑکوں پر دوبارہ احتجاج شروع ہو جائیں گے۔ تاہم امریکی انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق ایرانی حکومت کی اعلیٰ قیادت تاحال متحد ہے اور اندرونی طور پر کسی بڑے انتشار کے آثار نہیں ملے۔

ایک امریکی عہدیدار نے عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے تاحال فوجی حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم ایران کی کمزور صورتحال کو دیکھتے ہوئے امریکا جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری سمیت دیگر امور پر معاہدے کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: نوری المالکی وزیر اعظم بنے تو امریکا عراق کی کوئی مدد نہیں کرے گا: صدر ٹرمپ

دوسری جانب یورپی یونین ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے قریب پہنچ گئی ہے، جب کہ فرانس نے اس اقدام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ برسلز میں اجلاس کے دوران ایران پر مزید پابندیوں کی منظوری دینے والے ہیں، جو حالیہ مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے ردِعمل میں عائد کی جائیں گی۔